اسلام آباد میں ایران-امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی سفارتی کوششیں تیز

0
4
اسلام آباد میں ایران-امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی سفارتی کوششیں تیز

پاکستان میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور ایران و امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ محسن نقوی نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران مثبت پیش رفت کرے گا، جبکہ حکومتِ پاکستان، بشمول وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر، اس معاملے کے حل کے لیے سرگرم ہیں۔
ادھر واشنگٹن میں، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے واضح کیا کہ ایران پر بحری دباؤ برقرار رکھا جائے گا اور امریکا اپنی شرائط میں نرمی نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے لچک ضرور دکھائی ہے، لیکن ایران کو افزودہ یورینیم حوالے کرنا ہوگا۔
امریکی موقف کے برعکس، ایران کی قیادت نے ان بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ اگر معاشی پابندیاں برقرار رہیں تو جنگ بندی بے معنی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دباؤ کے ذریعے ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ مذاکرات کی راہ میں اصل رکاوٹ پابندیاں اور دھمکیاں ہیں، اور امریکا کے بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ان تمام اختلافات کے باوجود، پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایک بار پھر مذاکرات کی امید پیدا ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند دن کسی اہم پیش رفت کے لیے نہایت اہم ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ فریقین کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ ملاقاتیں کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کا راستہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

Leave a reply