آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ، ایران اور امریکا کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا

0
7
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ، ایران اور امریکا کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے دو غیر ملکی بحری جہازوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تحویل میں لیے گئے جہازوں میں لائبیریا کا ایک کارگو جہاز اور پاناما کے پرچم بردار ایک اور بحری جہاز شامل ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس بنیاد پر کی گئی کہ جہازوں کے پاس مطلوبہ اجازت نامے موجود نہیں تھے اور ان کے نیوی گیشن نظام میں مبینہ طور پر بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی انتظامیہ نے اسے “سمندری غیر قانونی کارروائی” قرار دیا ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ متاثرہ جہاز امریکی یا اسرائیلی ملکیت نہیں تھے، اس لیے اسے براہِ راست جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جا رہا۔
دوسری جانب امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور متعدد جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ بحر ہند میں ایرانی ٹینکرز کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے امکانات ابھی واضح نہیں ہیں۔
ایران نے امریکا کی جانب سے بحری پابندیوں اور دباؤ کی پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمانی قیادت کا مؤقف ہے کہ جب تک دباؤ اور پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں، اہم آبی گزرگاہوں کی صورتحال معمول پر نہیں آ سکتی۔
پاکستان اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ ابتدائی مذاکرات کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم سفارتی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔
اسی دوران مشرق وسطیٰ میں مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جہاں مختلف محاذوں پر کشیدگی اور حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
عالمی منڈیوں میں بھی اس صورتحال کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں، اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور شہری آبادی کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔

Leave a reply