
اسلام آباد میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینئر افسران کے ہمراہ ایک تفصیلی پریس کانفرنس کی، جس میں قومی سلامتی، علاقائی صورتحال اور ماضی کے ایک مبینہ فوجی واقعے “معرکہ حق” کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر مسلح افواج قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی افواج نے متحد ہو کر ایک بڑے چیلنج کا سامنا کیا اور ہر سطح پر مؤثر جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ہمیشہ قوم کی توقعات پر پوری اتری ہیں اور دفاعِ وطن کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
پریس کانفرنس میں بھارت کی عسکری اور سیاسی قیادت پر سخت تنقید کی گئی۔ ترجمان کے مطابق بھارت خطے میں جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت خود کو خطے میں سیکیورٹی فراہم کرنے والا ملک ظاہر کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ مختلف تنازعات اور کشیدگیوں کا حصہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے اور وہاں کے عوام کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج جدید ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیتوں اور دفاعی نظام کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔
فضائیہ کے نمائندے نے دعویٰ کیا کہ فضائی نگرانی اور دفاعی نظام انتہائی مؤثر ہے، جبکہ بحریہ نے سمندری حدود کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف نے کہا کہ پاک بحریہ ہر ممکن خطرے کے لیے تیار ہے اور سمندری حدود میں کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق جنگی صورتحال میں دشمن کے بحری بیڑے پر مکمل نظر رکھی گئی اور کسی بھی اقدام کی صورت میں بھرپور ردعمل کے لیے تیاری موجود تھی۔
پاک فضائیہ کے ڈپٹی ایئر چیف نے دعویٰ کیا کہ فضائی معرکے میں پاکستان نے برتری حاصل کی اور دشمن کے متعدد طیارے مار گرائے گئے۔ ان کے مطابق سائبر اور سیٹلائٹ نظام کو بھی متاثر کیا گیا جس سے دشمن کی صلاحیتیں محدود ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید لڑاکا طیارے اور دفاعی نظام ہر وقت تیار ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی گئی۔
پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ملک کے اندر انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز نے متعدد علاقوں میں آپریشنز کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے اور تمام تنازعات کا حل بات چیت سے ممکن ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج مکمل طور پر متحد ہیں اور کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حکام نے کہا کہ دفاعِ وطن کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔









