ٹرمپ دو روزہ دورہ مکمل کرکے بیجنگ سے روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ سے روانہ ہو گئے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے دورے کے اختتام پر کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی امور پر کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، تاہم کوئی ایسا بڑا معاہدہ طے نہیں پایا جو عالمی مالیاتی منڈیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا۔
یہ دورہ دنیا کی دو بڑی معاشی اور اسٹریٹجک طاقتوں، امریکا اور چین، کے تعلقات کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا تھا۔ مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ اس دورے کے ذریعے ایسے نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے جو امریکا میں آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی سیاسی پوزیشن کو مضبوط بنا سکیں۔
دوسری جانب چین نے تائیوان کے معاملے پر امریکا کو محتاط رہنے کا پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس مسئلے کو غلط انداز میں سنبھالنے سے خطے میں سنگین نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔ چینی حکام نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا۔
چین نے ایران سے متعلق جاری تنازع پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگی صورتحال پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی اور تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
یہ صدر ٹرمپ کا 2017 کے بعد چین کا پہلا دورہ تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات میں بہتری کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم دورے کے اختتام پر کسی بڑے معاہدے یا مشترکہ پیش رفت کا اعلان سامنے نہیں آیا۔









