خون کے نمونوں میں متعدد کیمیکلز کی موجودگی، تحقیق میں تشویش ناک نتائج

0
32

جدید دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں، لیکن اسی ترقی کے نتیجے میں کچھ ایسے خطرناک عناصر بھی سامنے آئے ہیں جو خاموشی سے انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی طور پر تیار کیے گئے بعض کیمیکلز اب انسانی جسم کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ یہ کیمیکلز، جنہیں عام طور پر “فور ایور کیمیکلز” کہا جاتا ہے، سائنسی زبان میں “پی ایف اے ایس” کہلاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کیمیکلز آسانی سے ختم یا تحلیل نہیں ہوتے اور ماحول میں طویل عرصے تک موجود رہتے ہیں۔

پی ایف اے ایس کیمیکلز پانی، گرمی اور چکنائی کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں، اسی لیے انہیں کپڑوں، فرنیچر، کھانے کی پیکنگ اور مختلف صنعتی مصنوعات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ یہ کیمیکلز زمین، پانی اور خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر جمع ہوتے رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں اس خاندان کے 15 ہزار سے زائد کیمیکلز موجود ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ان کا استعمال روزمرہ اشیا میں عام رہا ہے، جس کے باعث یہ پورے ماحولیاتی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔

امریکا کی ایک تحقیقی لیبارٹری کے سائنسدانوں نے 10 ہزار سے زائد خون کے نمونوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ انسان بیک وقت کتنے مختلف کیمیکلز کے اثر میں آ رہا ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق صرف بہت کم نمونوں میں ایک ہی قسم کا کیمیکل پایا گیا، جبکہ زیادہ تر افراد کے خون میں متعدد اقسام کے کیمیکلز موجود تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ کئی کیمیکلز کی موجودگی انسانی صحت کے لیے ممکنہ خطرات کو بڑھا سکتی ہے۔

تحقیق میں ایک خاص کیمیکل “پی ایف ایچ ایکس ایس” تقریباً 98 فیصد نمونوں میں پایا گیا۔ یہ کیمیکل عام طور پر کپڑوں، فرنیچر اور چپکنے والی اشیا میں استعمال ہوتا ہے۔ بعض ممالک اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ یہ جگر اور مدافعتی نظام پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تحقیق میں صرف چند عام کیمیکلز کی جانچ کی گئی تھی، اس لیے ممکن ہے انسانی جسم میں ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کیمیکلز کس مقدار میں انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔

جانوروں پر کی جانے والی بعض تحقیقات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ یہ کیمیکلز عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں، دماغی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم انسانوں پر ان کے مکمل اثرات جاننے کے لیے مزید تحقیق جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق ان کیمیکلز کو روزمرہ مصنوعات سے مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں، کیونکہ یہ اشیا کو پانی، گرمی اور تیل سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتیں اب ان کے استعمال کو محدود کرنے اور محفوظ متبادل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مستقبل میں انسانی صحت اور ماحول کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے۔

Leave a reply