نیم کی مسواک دانتوں کے لیے کتنی مفید؟ ماہرین کی رائے اور اہم احتیاطیں

0
28
نیم کی مسواک دانتوں کے لیے کتنی مفید؟ ماہرین کی رائے اور اہم احتیاطیں

نیم کی مسواک صدیوں سے برصغیر میں دانتوں اور منہ کی صفائی کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ جدید دور میں اگرچہ ٹوتھ برش اور مختلف اقسام کے ٹوتھ پیسٹ عام ہو چکے ہیں، تاہم قدرتی طریقوں سے دانت صاف کرنے کا رجحان اب بھی برقرار ہے۔

نیم کی نرم شاخ سے تیار کی جانے والی مسواک کے ریشے دانتوں کی سطح سے خوراک کے ذرات اور بعض سطحی میل کو دور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ نیم میں ایسے قدرتی مرکبات بھی پائے جاتے ہیں جن میں جراثیم کے خلاف خصوصیات ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔

مسواک کے ممکنہ فوائد

نیم کی مسواک کو مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ دانتوں کی روزمرہ صفائی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ مسواک کے ریشے دانتوں کی سطح پر موجود جمع شدہ ذرات کو ہٹانے میں مدد کرتے ہیں، جبکہ اسے چبانے سے تھوک کی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے، جو منہ کو قدرتی طور پر صاف رکھنے کے عمل میں کردار ادا کرتی ہے۔

نیم کے بعض اجزا بیکٹیریا کی افزائش کو محدود کرنے میں بھی مدد دے سکتے ہیں، جس کی وجہ سے مسوڑھوں اور منہ کی صفائی کے حوالے سے اسے روایتی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے۔

تاہم یہ سمجھنا درست نہیں کہ مسواک ہر صورت میں ٹوتھ برش، فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ اور دانتوں کے درمیان صفائی کے دیگر طریقوں کا مکمل متبادل ہے۔

غلط استعمال نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے

مسواک استعمال کرتے وقت صفائی کے ساتھ طریقہ کار بھی اہم ہے۔ اگر ٹہنی کو دانتوں یا مسوڑھوں پر بہت زیادہ زور سے رگڑا جائے تو مسوڑھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور دانتوں کی بیرونی سطح بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

اسی طرح صرف مسواک پر انحصار کرنے سے دانتوں کے درمیان موجود جگہوں کی مکمل صفائی مشکل ہوسکتی ہے۔ ان مقامات پر پلاک جمع ہونے کی صورت میں مستقبل میں مسوڑھوں کی بیماری یا دانتوں کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

آلودہ یا غیر صاف جگہ سے حاصل کی گئی ٹہنی بھی منہ کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، اس لیے مسواک کے لیے صاف اور مناسب شاخ کا انتخاب ضروری ہے۔

نیم کی مسواک استعمال کرنے کا بہتر طریقہ

مسواک کے لیے تازہ، صاف اور نسبتاً نرم نیم کی ٹہنی استعمال کی جائے۔ ٹہنی کو صاف پانی سے دھونے کے بعد ایک سرے سے تھوڑی سی چھال اتارکراسے آہستہ آہستہ چبایا جائے، یہانتک کہ ریشے برش کیطرح نرم ہوجائیں۔

اس کے بعد ان ریشوں کو دانتوں کی بیرونی اور اندرونی سطح پر نرمی سے پھیرا جائے۔ زیادہ دباؤ ڈالنے یا سختی سے رگڑنے سے گریز کرنا چاہیے، خصوصاً مسوڑھوں کے قریب۔

استعمال کے بعد مسواک کو صاف رکھنا ضروری ہے اور اگر ریشے خراب، آلودہ یا بہت خشک ہوجائیں تو اسے تبدیل کر دینا بہتر ہے۔

کیا صرف مسواک کافی ہے؟

دانتوں کی مجموعی صحت کے لیے صرف کسی ایک طریقے پر انحصار کرنے کے بجائے مکمل زبانی صفائی زیادہ اہم ہے۔ دانتوں کے درمیان صفائی، مناسب برشنگ اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ بھی ضروری ہیں۔

اگر مسوڑھوں سے مسلسل خون آتا ہو، دانتوں میں درد یا حساسیت ہو یا منہ کی بدبو برقرار رہے تو خود علاج کرنے کے بجائے ڈینٹسٹ سے معائنہ کروانا چاہیے۔

مختصر طور پر، نیم کی مسواک مناسب طریقے سے استعمال کی جائے تو منہ کی صفائی میں معاون ہوسکتی ہے، لیکن اسے دانتوں کی مکمل دیکھ بھال کا واحد ذریعہ سمجھنا مناسب نہیں۔

Leave a reply