نیتن یاہو کی تقریر کے دوران جنرل اسمبلی میں بڑا واک آؤٹ، متعدد وفود ہال سے باہر نکل گئے

0
31
نیتن یاہو کی تقریر کے دوران جنرل اسمبلی میں بڑا واک آؤٹ، متعدد وفود ہال سے باہر نکل گئے

نیویارک: اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر متعدد ممالک کے سفارتی وفود نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا، جس کے باعث جنرل اسمبلی ہال کا ایک بڑا حصہ خالی دکھائی دیا۔

نیتن یاہو کے خطاب کے لیے روسٹرم پر آنے کے ساتھ ہی کئی مندوبین اپنی نشستیں چھوڑ کر ہال سے باہر چلے گئے۔ دوسری جانب گیلری میں موجود اسرائیلی وزیراعظم کے حامیوں نے عبرانی زبان میں اسرائیل کے حق میں نعرے لگائے۔

وفود کے واک آؤٹ کے دوران اجلاس کی صدارت کرنے والے عہدیدار نے کئی مرتبہ شرکا کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ نیتن یاہو نے خطاب کے آغاز میں ہال میں موجود افراد سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر وہ چاہیں تو تقریر شروع ہونے سے پہلے باہر جا سکتے ہیں۔

اپنے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ جنگ، ایران، حزب اللہ اور اسرائیل کے علاقائی مخالفین سے متعلق اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے اسرائیل پر نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے نسل کشی نہیں کی بلکہ اس کے برعکس اسے روکنے کے لیے کارروائی کی۔

نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے ممدانی کے اسرائیل سے متعلق بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے ان پر اسرائیل کے خلاف غلط معلومات پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ ممدانی ماضی میں نیتن یاہو کو جنگی جرائم سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے والا قرار دے چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کا ذکر کرتے ہوئے ایک اسٹارلنک ڈیوائس بھی سامعین کو دکھائی اور دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت انٹرنیٹ اور اطلاعات تک عوام کی رسائی محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے یہ ڈیوائس ایرانی وفد کے لیے چھوڑنے کا بھی کہا۔

نیتن یاہو نے قطر کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ وہاں سے اسرائیل اور امریکا مخالف سرگرمیوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

خطاب کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پیجر بھی ہاتھ میں اٹھایا۔ انہوں نے ایران اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکی حمایت کو بھی اجاگر کیا۔

واضح رہے کہ ستمبر 2024 میں لبنان اور شام کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے زیر استعمال بڑی تعداد میں پیجرز ایک ہی وقت میں پھٹ گئے تھے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہونے والا واک آؤٹ اسرائیلی حکومت کی غزہ اور علاقائی پالیسیوں پر عالمی سطح پر موجود شدید سفارتی اختلافات کی نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا۔

Leave a reply