نہ زِپ کوڈ، نہ پوسٹل کوڈ! دبئی میں پارسل صحیح پتے تک کیسے پہنچتا ہے؟

دبئی میں خطوط، پارسل اور آن لائن خریداری کی اشیا کی ترسیل کے لیے پاکستان یا دیگر کئی ممالک کی طرح روایتی پوسٹل یا زِپ کوڈ کا نظام عام نہیں۔ اس کے باوجود ڈاک اور کورئیر کی ترسیل مکمل پتے اور دیگر شناختی معلومات کی بنیاد پر باآسانی کی جاتی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں ڈاک کی ترسیل کے لیے ایمریٹس پوسٹ کا نظام موجود ہے۔ پارسل بھیجتے یا منگواتے وقت وصول کنندہ کا نام، عمارت یا مکان کا نمبر، سڑک، فلیٹ یا یونٹ نمبر، امارت اور فعال فون نمبر درج کرنا اہم ہوتا ہے۔ یہی معلومات کورئیر کو درست مقام تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں۔
پی او باکس بھی اہم ذریعہ
متحدہ عرب امارات میں پی او باکس کے ذریعے ڈاک وصول کرنے کا طریقہ بھی رائج ہے۔ افراد اور کاروباری ادارے پی او باکس حاصل کرکے خطوط اور دیگر ڈاک وہاں وصول کرسکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ڈاک کی گھر تک ترسیل کی سہولت بھی دستیاب ہوتی ہے۔
ہوٹل میں پارسل منگوانے کا طریقہ
دبئی آنے والے سیاح اگر آن لائن خریداری کریں تو انہیں کسی مخصوص دبئی پوسٹل کوڈ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آرڈر میں اپنا نام، ہوٹل کا نام، کمرہ نمبر، مکمل پتہ، دبئی، متحدہ عرب امارات اور فعال فون نمبر درج کرنا بہتر ہے۔
تاہم آرڈر دینے سے پہلے ہوٹل سے تصدیق کرلینا ضروری ہے کہ آیا وہ مہمانوں کے لیے پارسل وصول کرتا ہے یا نہیں۔
اگر ویب سائٹ زِپ کوڈ مانگے؟
بعض عالمی ویب سائٹس اپنے فارم میں زِپ کوڈ لازمی قرار دیتی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر ویب سائٹ N/A یا Not Applicable جیسے الفاظ قبول کرتی ہو تو انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم ہر ویب سائٹ کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ آرڈر مکمل کرنے سے پہلے متعلقہ ویب سائٹ کی ہدایات دیکھنا بہتر ہے۔
پارسل کی ٹریکنگ بھی ممکن
پوسٹل کوڈ نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پارسل کو ٹریک نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاک اور کورئیر سروسز ٹریکنگ نمبر فراہم کرتی ہیں، جس کے ذریعے صارف اپنے پارسل کی ترسیلی صورتحال معلوم کرسکتا ہے۔
یوں دبئی میں روایتی پوسٹل کوڈ کے بجائے مکمل پتہ، عمارت اور یونٹ کی تفصیلات، وصول کنندہ کا نام اور رابطہ نمبر ترسیل کے لیے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی نظام پوسٹل کوڈ کے بغیر بھی پارسل کو درست منزل تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔









