ناشتہ چھوڑنے کی عادت کب بن سکتی ہے مسئلہ؟ نئی تحقیق نے اشارہ دے دیا

0
20
ناشتہ چھوڑنے کی عادت کب بن سکتی ہے مسئلہ؟ نئی تحقیق نے اشارہ دے دیا

دن کا آغاز ناشتہ کیے بغیر کرنے کی عادت صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، خصوصاً بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے کے حوالے سے۔ ایک نئی سائنسی تحقیق میں ناشتہ اور جسم میں شوگر کنٹرول کرنے والے ہارمونز کے درمیان اہم تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
امریکا کی وینڈربلٹ یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ صبح کے وقت غذا استعمال کرنے یا نہ کرنے سے انسولین، گلوکاگون اور جگر کے گلوکوز سے متعلق افعال کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق انسولین اور گلوکاگون جسم میں بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں ایک دوسرے کے برعکس کردار ادا کرتے ہیں۔ انسولین خون میں موجود گلوکوز کی مقدار کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ گلوکاگون ضرورت کے وقت جگر کو گلوکوز خون میں خارج کرنے کا سگنل دیتا ہے۔
محققین کے مشاہدے کے مطابق صبح کے وقت گلوکاگون کی سرگرمی بڑھنے پر، خاص طور پر جب ناشتہ نہ کیا جائے، جگر گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کے بجائے اسے خون میں جاری کرتا رہ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل ان عوامل میں شامل ہوسکتا ہے جو دن کے مختلف اوقات میں بلڈ شوگر کے بڑھنے کا سبب بنتے ہیں، بالخصوص ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار افراد میں۔
تحقیق میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ناشتہ کرنے کے جسم پر مکمل اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ محققین مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Frontiers in Endocrinology میں شائع کیے گئے ہیں۔

Leave a reply