
اسلام آباد: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے مزید کفایت شعاری اقدامات نافذ کردیے ہیں، جن کے تحت 50 فیصد ملازمین دفاتر میں جبکہ باقی نصف گھر سے فرائض انجام دیں گے۔
جاری اعلامیے کے مطابق گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو ٹیلی فون، ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے دستیاب رہنا ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر انہیں ایک گھنٹے کے نوٹس پر دفتر پہنچنا بھی لازم ہوگا۔ ایسے ملازمین کو گھر سے کام کے دوران ڈائٹ الاؤنس اور اوور ٹائم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے استعمال میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی گئی ہے، جبکہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اعلامیے میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے لیے پائیدار نوعیت کی مختلف اشیا کی خریداری روکنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم آئی ٹی سے متعلق ضروری سامان اس پابندی سے مستثنیٰ ہوگا۔
مزید برآں آئندہ تین ماہ کے دوران غیر ملکی دوروں اور سرکاری سفری اخراجات پر پابندی ہوگی۔ تاہم بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ اسکالرشپس اور مخصوص تربیتی پروگرامز اس پابندی سے مستثنیٰ رہیں گے۔
غیر ملکی وفود کے علاوہ دیگر سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر بھی پابندی ہوگی، جبکہ حکومتی فنڈنگ سے ہونے والے سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز منعقد نہیں کیے جائیں گے۔ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے آڈیٹوریم، کمیٹی رومز اور دیگر دستیاب سرکاری سہولیات استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اخراجات میں مزید کمی کے لیے سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق یہ تمام اضافی کفایت شعاری اقدامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔








