
واشنگٹن: کائنات کی تشکیل، کہکشاؤں کے ارتقا، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی سے متعلق اہم سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے ناسا کی نئی خلائی دوربین نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ اپنے خلائی سفر پر روانہ ہوگئی ہے۔
رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو امریکی ریاست فلوریڈا میں قائم کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے لانچ کیا گیا۔ اس مشن کے ذریعے ماہرین فلکیات کائنات کا ایک وسیع سروے کرنے اور ایسی معلومات جمع کرنے کی کوشش کریں گے جو موجودہ خلائی مشاہدات میں مزید پیش رفت کا باعث بن سکیں۔
لانچ کے بعد دوربین کا اگلا بڑا مرحلہ سورج اور زمین کے نظام کے ایل ٹو لاغرینج پوائنٹ تک پہنچنا ہے۔ یہ مقام زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں رومن دوربین کو کائنات کے وسیع حصے کا مشاہدہ کرنے کے لیے موزوں ماحول میسر ہوگا۔
ناسا کے منصوبے کے مطابق رومن کو اس مقام تک پہنچنے میں تقریباً ایک ماہ درکار ہوگا۔ وہاں پہنچنے کے بعد دوربین کے مختلف نظاموں کو فعال کرنے، مدار کو درست کرنے اور سائنسی آلات کی جانچ کا مرحلہ شروع ہوگا۔ باقاعدہ سائنسی مشاہدات سے قبل تقریباً تین ماہ تک کمیشننگ کا عمل جاری رہنے کی توقع ہے۔
رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کی نمایاں خصوصیت اس کا وسیع میدانِ نظر ہے۔ اس کا 2.4 میٹر قطر کا بنیادی آئینہ ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے آئینے کے تقریباً برابر ہے، تاہم رومن کا وائیڈ فیلڈ انسٹرومنٹ ایک وقت میں ہبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع آسمانی علاقے کا جائزہ لے سکے گا۔
سائنس دان اس دوربین کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مختلف ادوار میں کہکشائیں کس طرح تشکیل پائیں اور ان میں تبدیلیاں کیسے آئیں۔ اس کے علاوہ کائنات کی توسیع، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی نوعیت اور اثرات بھی مشن کے اہم سائنسی اہداف میں شامل ہیں۔
رومن کا ایک اہم مقصد ہمارے نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں، یعنی ایکسوپلینٹس، کی تلاش بھی ہے۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ وسیع پیمانے پر کیے جانے والے مشاہدات سے ایسے سیاروں کی نشاندہی ممکن ہوگی جنہیں موجودہ طریقوں سے تلاش کرنا مشکل ہے۔
رومن اور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے سائنسی کردار میں بھی نمایاں فرق ہے۔ جہاں جیمز ویب انتہائی دور موجود اجرام کی تفصیلی تحقیق کے لیے اپنی غیر معمولی صلاحیت استعمال کرتا ہے، وہیں رومن کا زور وسیع آسمانی خطے کا سروے کرکے کائنات کی مجموعی تصویر بہتر طور پر سمجھنے پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے کائنات کے ماضی، اس کی موجودہ ساخت اور مستقبل میں اس کے ارتقائی عمل کو سمجھنے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔ کامیاب کمیشننگ کے بعد دوربین کے باقاعدہ سائنسی مشاہدات فلکیات کے کئی بنیادی سوالات پر نئی روشنی ڈالنے کی توقع ہے۔









