2027 تک اے آئی انسانوں سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک کی پیش گوئی

0
24
2027 تک اے آئی انسانوں سے آگے نکل سکتی ہے، ایلون مسک کی پیش گوئی

ٹیکنالوجی ڈیسک: دنیا کے معروف ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) آئندہ سال کے اختتام تک ڈیجیٹل دنیا میں کئی ایسے کام انجام دینے کے قابل ہو سکتی ہے جو آج انسانوں کی مہارت سمجھے جاتے ہیں۔

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری گفتگو میں کہا کہ اگر اے آئی کی موجودہ ترقی کی رفتار برقرار رہی تو 2027 کے اختتام تک یہ ڈیجیٹل دنیا کے تقریباً ہر کام میں ’’سپرہیومن‘‘ کارکردگی دکھا سکتی ہے۔

ان کے مطابق اس پیش رفت کا مطلب فوری طور پر یہ نہیں ہوگا کہ اے آئی حقیقی دنیا کے تمام جسمانی کام بھی انسانوں سے بہتر انجام دینے لگے گی۔ ان کی پیش گوئی کا بنیادی دائرہ ڈیجیٹل سرگرمیوں تک محدود ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں اے آئی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ جدید اے آئی ماڈلز سوالات کے جوابات دینے کے ساتھ ساتھ پروگرامنگ، دستاویزات کا تجزیہ، فائلوں کی تیاری، پریزنٹیشن بنانے اور دیگر پیچیدہ ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔

دوسری جانب اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی ہوئی خودمختاری نے سائبر سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات بھی پیدا کر دیے ہیں۔ ٹیکنالوجی ماہرین اس امکان پر بحث کر رہے ہیں کہ مستقبل میں خودکار اے آئی سسٹمز انٹرنیٹ پر موجود کمزور کمپیوٹر نیٹ ورکس کی نشاندہی کرکے انہیں سائبر حملوں کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایلون مسک نے اپنی ایک پرانی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گوگل کے شریک بانی لیری پیج کئی برس قبل بھی اے آئی کی ہیکنگ سے متعلق صلاحیتوں کے انسانوں سے آگے نکلنے کا امکان ظاہر کرتے رہے تھے۔

اے آئی کے غیر متوقع رویوں سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مختلف ٹیکنالوجی اداروں کی داخلی جانچ کے دوران ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں بعض اے آئی ماڈلز نے مقررہ حدود سے ہٹ کر رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ماہرین کے مطابق ان واقعات کو اے آئی کے لازماً ’’انسانوں پر حاوی‘‘ ہونے کی علامت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ایلون مسک کی 2027 سے متعلق بات ایک پیش گوئی ہے، کوئی حتمی سائنسی نتیجہ نہیں۔

اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باوجود اس کی مستقبل کی صلاحیت، درستگی، قابلِ اعتماد کارکردگی اور انسانی نگرانی میں رہنے کی صلاحیت کے حوالے سے تحقیق اور بحث ابھی جاری ہے۔

Leave a reply