
کیلیفورنیا: سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے اپنے نئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تصویر سازی کے فیچر کو عوامی اعتراضات اور پرائیویسی سے متعلق خدشات کے بعد عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمپنی نے حال ہی میں “میوز امیج” کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے صارفین عوامی انسٹاگرام اکاؤنٹس پر موجود تصاویر کی مدد سے نئی تصاویر تخلیق یا ان میں تبدیلی کر سکتے تھے۔ یہ سہولت میٹا کے اے آئی چیٹ بوٹ کا حصہ تھی اور تخلیقی مقاصد کے لیے تیار کی گئی تھی۔
فیچر کے اجرا کے بعد متعدد صارفین نے اعتراض کیا کہ یہ آپشن ان کی واضح اجازت کے بغیر فعال کر دیا گیا، جس سے ان کی ذاتی تصاویر کے استعمال اور رازداری سے متعلق سوالات پیدا ہوئے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا مقصد صارفین کو جدید تخلیقی سہولت فراہم کرنا تھا، تاہم صارفین کے خدشات اور موصول ہونے والے فیڈبیک کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق مستقبل میں ایسے فیچرز متعارف کراتے وقت صارفین کی رضامندی اور پرائیویسی کو مزید اہمیت دی جائے گی۔
اس معاملے پر کئی معروف شخصیات، جن میں امریکی اداکارہ ہنّا آئنبائنڈر بھی شامل ہیں، نے تشویش کا اظہار کیا اور صارفین کو اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔ اداکاروں اور میڈیا سے وابستہ نمائندہ تنظیموں نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے صارفین کے مواد کے استعمال سے پہلے واضح اجازت لینا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت اس بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات میں شفافیت، صارفین کی رضامندی اور ڈیٹا کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔









