
اسلام آباد: پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کردیا ہے۔ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیے جانے والے جنرل سیکریٹریٹ کی قیادت کریںگے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نعمان محمود تینوں رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق امور کی نگرانی کریں گے۔ جنرل سیکریٹریٹ کو معاہدے کے تحت مشترکہ رابطہ کاری اور انتظامی امور کے مرکزی ادارے کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے۔
ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود پاک فوج میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد دسمبر 2019 میں پشاور کور کے کمانڈر مقرر ہوئے۔
انہوں نے نومبر 2021 تک پشاور کور کی کمان سنبھالی، جبکہ بعد ازاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں ادا کیں۔
نعمان محمود کی سابقہ ذمہ داریوں میں شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کی کمان، آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل اینالیسس اور جنرل ہیڈکوارٹرز میں انسپکٹر جنرل کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدے شامل ہیں۔ وہ انفنٹری یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر اور کور ہیڈکوارٹرز میں چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 11 ستمبر 1987 کو پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ تعلیم میں پاکستان کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، مصر کے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے حاصل کردہ تربیت شامل ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاع، سلامتی اور باہمی فوجی تعاون کو منظم اور مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت یہ اصول بھی طے کیا گیا ہے کہ کسی ایک رکن ملک کے خلاف مسلح کارروائی کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔ اس کا مقصد رکن ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ریاض میں قائم ہونے والا جنرل سیکریٹریٹ اسی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ امور کے لیے رابطہ کاری کا مرکزی پلیٹ فارم ہوگا۔









