
مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بھارتی اقدام کو سات سال مکمل ہونے پر پاکستان سمیت مختلف مقامات پر یومِ استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئینی شقوں کے خاتمے کے بعد سے یہ دن پاکستان میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ملک بھر میں صبح کے وقت ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں سمیت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر شہروں میں مختلف پروگرام منعقد کیے گئے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام مشکلات کے باوجود اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے اقدامات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھایا۔ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
مسلح افواج کی قیادت نے بھی اپنے پیغام میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔
آزاد کشمیر کی قیادت نے بھی اس دن کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔









