دل کے دورے کی صورت میں سی پی آر سیکھنے کی اہمیت — ماہرین کی وارننگ

0
10
دل کے دورے کی صورت میں سی پی آر سیکھنے کی اہمیت — ماہرین کی وارننگ

آج کل دل کے امراض میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور طبی ماہرین کے مطابق نوجوان افراد بھی ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایسے ہنگامی حالات میں فوری ابتدائی طبی امداد یعنی کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن (سی پی آر) جاننا زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو اچانک دل کی دھڑکن بند ہونے یا سانس رکنے کی صورت پیش آئے تو فوری سی پی آر شروع کرنا مریض کے بچنے کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب ایمبولینس کے پہنچنے میں تاخیر ہو۔
سی پی آر ایک ہنگامی طریقہ کار ہے جس میں سینے پر مسلسل دباؤ ڈال کر خون کی گردش کو عارضی طور پر جاری رکھا جاتا ہے تاکہ دماغ اور دیگر اہم اعضا کو آکسیجن ملتی رہے۔ بعض صورتوں میں تربیت یافتہ افراد مصنوعی سانس بھی دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص اچانک بے ہوش ہو جائے تو سب سے پہلے ایمرجنسی سروس کو اطلاع دی جائے۔ اس کے بعد دیکھا جائے کہ مریض سانس لے رہا ہے یا نہیں اور اس کی نبض چیک کی جائے۔ اگر سانس اور نبض موجود نہ ہوں تو فوراً سی پی آر شروع کرنا چاہیے۔
سی پی آر کے لیے مریض کو سخت اور ہموار سطح پر لٹانا ضروری ہے۔ سینے کے درمیان حصے پر دونوں ہاتھ رکھ کر جسم کے وزن کے ساتھ دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس عمل میں فی منٹ تقریباً 100 سے 120 بار سینے کو دبانے کی ہدایت کی جاتی ہے، جبکہ ہر دباؤ میں سینہ مناسب حد تک نیچے جانا چاہیے۔
اگر تربیت حاصل ہو تو ہر 30 دباؤ کے بعد دو بار مصنوعی سانس دی جا سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق غیر تربیت یافتہ افراد صرف سینے پر دباؤ ڈالنے کا عمل جاری رکھیں تو بھی یہ مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ عمل اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک مریض میں بہتری نہ آ جائے یا طبی امدادی ٹیم موقع پر نہ پہنچ جائے۔ اگر مریض کی سانس بحال ہو جائے تو اسے پہلو کے بل لٹانا بہتر سمجھا جاتا ہے تاکہ سانس کی روانی برقرار رہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سی پی آر کی بنیادی تربیت ہر فرد کے لیے ضروری ہے، کیونکہ فوری ردعمل کسی بھی انسانی جان کو بچانے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہیں، کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر پیشہ ور طبی عملے سے رابطہ کیا جائے۔

Leave a reply