مردوں کی قبل از وقت موت کا بڑا راز کھل گیا، خواتین کیوں زیادہ جیتی ہیں؟

حیاتیاتی فرق کے علاوہ سگریٹ نوشی، ذہنی دباؤ، معاشی مشکلات اور سماجی تنہائی بھی مردوں کی کم اوسط عمر کا سبب بن سکتی ہیں۔
دنیا بھر میں خواتین کی اوسط عمر مردوں سے زیادہ ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اس فرق کے پیچھے صرف جینیاتی یا جسمانی عوامل نہیں بلکہ معاشرتی رویے، طرزِ زندگی، معاشی حالات اور صحت سے متعلق لاپروائی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک عالمی تحقیق میں 204 ممالک اور علاقوں کے 1950 سے 2023 تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ مردوں اور خواتین کی شرحِ اموات میں فرق کی کئی وجوہات ہیں۔ محققین کے مطابق مردوں کی صحت کو متاثر کرنے والے عوامل میں بعض ایسے ہیں جنہیں بروقت اقدامات کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔
حیاتیاتی فرق بھی اہمیت رکھتا ہے
ماہرین کے مطابق خواتین میں دو ایکس کروموسوم ہوتے ہیں، جبکہ مردوں میں ایک ایکس اور ایک وائی کروموسوم پایا جاتا ہے۔ خواتین میں دوسرا ایکس کروموسوم بعض موروثی بیماریوں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ مدافعتی نظام میں فرق بھی مردوں کو بعض انفیکشنز کے مقابلے میں زیادہ حساس بنا سکتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ مردوں کی کم اوسط عمر کی وجہ صرف جینیاتی ساخت نہیں ہے۔
بیماری کو نظرانداز کرنا نقصان دہ
مردوں میں ایک اہم مسئلہ صحت کے مسائل کو چھپانا یا ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کرنا بھی ہے۔
بعض مرد جسمانی علامات، پیشاب کے مسائل یا جنسی صحت سے متعلق پریشانیوں پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس رویے کے نتیجے میں بیماری کی تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے اور علاج کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق باقاعدہ طبی معائنہ اور علامات ظاہر ہونے پر فوری ڈاکٹر سے رابطہ کئی سنگین بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔
غربت اور معاشی دباؤ کے اثرات
مردوں کی صحت پر معاشی حالات بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بے روزگاری، کم آمدنی اور مالی مشکلات نہ صرف ذہنی دباؤ بڑھاتی ہیں بلکہ صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی محدود کر سکتی ہیں۔
کئی معاشروں میں مردوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاندان کی تمام مالی ذمہ داریاں اٹھائیں اور اپنے مسائل خود حل کریں۔ یہ دباؤ ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
سگریٹ نوشی اور غیر صحت مند عادات
تمباکو نوشی، شراب نوشی اور منشیات کا استعمال مردوں کی صحت کے لیے بڑے خطرات میں شامل ہیں۔
یہ عادات دل کی بیماریوں، جگر کے مسائل، سرطان اور دیگر سنگین امراض کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق نقصان دہ طرزِ زندگی کو مردانگی یا بہادری سے جوڑنا بھی ایک ایسا معاشرتی رویہ ہے جس کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
سوشل میڈیا اور تنہائی کا بڑھتا ہوا مسئلہ
تحقیق میں سماجی تنہائی کو بھی مردوں کی قبل از وقت موت کے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔
2025 میں برطانیہ کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق سماجی طور پر تنہا مردوں میں قبل از وقت موت کا خطرہ 41 فیصد زیادہ دیکھا گیا، جبکہ خواتین میں یہ شرح 25 فیصد تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دوستوں اور خاندان سے دوری، جذبات کا اظہار نہ کرنا اور ذہنی پریشانیوں کو چھپانا مردوں کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
آن لائن سرگرمیاں اور منفی معاشرتی اثرات
محققین نے انٹرنیٹ پر موجود بعض ایسے گروپس کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو مردوں میں غصے، معاشرتی دوری اور خواتین کے خلاف منفی سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ جوئے کے اشتہارات اور مالی خطرات سے متعلق آن لائن مواد بھی بعض مردوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے رجحانات ذہنی دباؤ، قرض اور دیگر معاشرتی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
مرد اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے کیا کریں؟
ماہرین کے مطابق مرد اپنی روزمرہ زندگی میں چند مثبت تبدیلیاں لا کر صحت کے خطرات کم کر سکتے ہیں۔
– متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کو معمول بنائیں۔
– سگریٹ نوشی اور منشیات سے مکمل اجتناب کریں۔
– بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور شوگر کی باقاعدہ جانچ کروائیں۔
– کسی بھی غیر معمولی جسمانی علامت کو نظرانداز نہ کریں۔
– ذہنی پریشانیوں اور بیماریوں پر خاندان اور دوستوں سے بات کریں۔
– دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط رکھیں۔
– ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے مدد حاصل کریں۔
محققین کے مطابق مردوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے حکومتی سطح پر بھی مؤثر اقدامات ضروری ہیں، جن میں علاج کی سہولتوں تک آسان رسائی، بیماریوں سے متعلق آگاہی اور ذہنی صحت کی خدمات شامل ہیں۔
تحقیق کا اہم پیغام یہ ہے کہ مردوں کی طویل اور صحت مند زندگی کے لیے صرف طبی علاج کافی نہیں، بلکہ صحت مند عادات، جذباتی اظہار، سماجی تعلقات اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔









