فٹبال کی دنیا میں ہلچل، ناروے نے فیفا کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کردی

0
0
فٹبال کی دنیا میں ہلچل، ناروے نے فیفا کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کردی

ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے امریکی فارورڈ فولارن بیلوگن کی ورلڈ کپ معطلی ختم کیے جانے کے فیصلے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس فیصلے نے کھیل میں شفافیت اور قوانین کے یکساں اطلاق سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا کیے ہیں۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں لیزے کلاوینیس نے بتایا کہ وہ یہ معاملہ فیڈریشن کے بورڈ کے سامنے رکھیں گی، جس کی منظوری کے بعد فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت جمع کرائی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بیلوگن کی معطلی ختم کرنا ایسا فیصلہ ہے جسے کھیل کے اخلاقی اصولوں کے تناظر میں جانچا جانا چاہیے، کیونکہ اس سے مستقبل میں قوانین کے نفاذ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بیلوگن کو بوسنیا اور ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں ریڈ کارڈ ملنے کے بعد اگلے میچ کے لیے خودکار طور پر معطل کیا گیا، تاہم بعد ازاں فیفا نے یہ پابندی ختم کر دی۔
کئی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کرکے اس معاملے میں مداخلت کی، جس کے بعد فیصلے پر مزید سوالات اٹھائے گئے۔ تاہم فیفا کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
لیزے کلاوینیس نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے میں مناسب طریقہ کار پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور ممکنہ بیرونی دباؤ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق فیفا کو اس فیصلے کی شفاف وضاحت فراہم کرنی چاہیے۔
انہوں نے یہ اعتراض بھی اٹھایا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق معطلی ختم کرنے کا فیصلہ فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین محمد الکمالی نے دیگر ارکان سے مشاورت کے بغیر کیا، جبکہ ایسے حساس معاملات میں اجتماعی فیصلہ سازی ضروری ہوتی ہے۔
ناروے کی فٹبال فیڈریشن کی صدر نے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد مزید بڑھانے کی تجویز پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹورنامنٹ کی موجودہ توسیع ہی ایک بڑی تبدیلی ہے اور مزید اضافہ عالمی فٹبال کے شیڈول اور قومی لیگز پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

Leave a reply