
بالی ووڈ اداکار عامر خان کی حالیہ شادی ایک نئے تنازع کا موضوع بن گئی ہے۔ اتر پردیش کے ایک مذہبی عالم نے اداکار کی بین المذاہب شادی پر اعتراض کرتے ہوئے ایک فتویٰ جاری کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسلم پرسنل دارالافتاء سے وابستہ مفتی اعظم مولانا چودھری ابراہیم حسین نے عامر خان اور گوری اسپرٹ کی شادی کے حوالے سے موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی قوانین کے مطابق مسلمان مرد کے لیے غیر مسلم خاتون سے شادی کی اجازت نہیں، جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کرے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی شادی کو شریعت کے مطابق درست نہیں سمجھا جاتا اور مسلمانوں کو مذہبی احکامات کی پیروی کرنی چاہیے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عامر خان نے اپنی شادی پر ہونے والی تنقید اور بین المذاہب شادی سے متعلق الزامات پر وضاحت دی تھی۔ اداکار کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے ہمیشہ مختلف مذاہب کے لوگوں کا احترام کیا ہے اور ان کی سابقہ اہلیاؤں رینا دتہ، کرن راؤ اور موجودہ اہلیہ گوری اسپرٹ میں سے کسی نے بھی شادی کے لیے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا۔
عامر خان کے مطابق ان کی شادیاں قانونی طریقے سے ہوئی تھیں اور ان میں مذہب کی تبدیلی شامل نہیں تھی۔
گوری اسپرٹ کا تعلق بنگلور سے بتایا جاتا ہے اور وہ بیوٹی و ویلنس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ یہ ان کی دوسری شادی ہے اور ان کا پہلی شادی سے ایک بیٹا بھی ہے۔
عامر خان اس سے قبل رینا دتہ اور کرن راؤ سے شادی کر چکے ہیں۔ رینا دتہ سے ان کے دو بچے جنید اور ایرا ہیں، جبکہ کرن راؤ سے ان کا بیٹا آزاد ہے۔ عامر خان اور کرن راؤ 2021 میں الگ ہو گئے تھے۔
شادی کے حوالے سے جاری ہونے والے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر بین المذاہب شادی، مذہبی قوانین اور ذاتی آزادی کے موضوعات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔









