صبح کی سیر سے دل کے مریضوں کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟

0
0
صبح کی سیر سے دل کے مریضوں کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟

سردیوں میں صبح سویرے چہل قدمی صحت مند رہنے کا ایک اچھا ذریعہ سمجھی جاتی ہے، تاہم دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے شدید سردی میں ورزش کرنا بعض اوقات خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق سرد موسم میں جسمانی مشقت دل پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے دل کے مریضوں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

سردی کے باعث جسم کی خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں دل کو خون کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ کیفیت بالخصوص ان افراد کے لیے تشویش ناک ہو سکتی ہے جن کی دل کی شریانیں پہلے ہی تنگ ہوں یا جو ماضی میں ہارٹ اٹیک کا سامنا کر چکے ہوں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ دل کے مریض انتہائی سرد موسم میں صبح بہت جلد سیر کرنے سے گریز کریں اور درجہ حرارت بہتر ہونے کے بعد چہل قدمی کریں۔ باہر جانے سے پہلے موسم اور فضائی آلودگی کی صورتحال بھی ضرور دیکھیں۔

سیر کے دوران گرم لباس کی کئی تہیں پہنیں اور سر، کانوں اور ہاتھوں کو سردی سے محفوظ رکھیں۔ گھر سے نکلنے سے پہلے پانچ سے دس منٹ تک ہلکی ورزش کریں اور چہل قدمی کا آغاز آہستہ رفتار سے کریں۔

ماہرین کے مطابق چلتے ہوئے اگر کوئی شخص آسانی سے گفتگو کر سکتا ہے تو عموماً اس کی رفتار مناسب ہوتی ہے۔ حالیہ ہارٹ اٹیک یا ہارٹ فیلئر کے مریض ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ورزش کریں۔

سیر کے دوران سینے میں درد، غیر معمولی سانس پھولنے، چکر آنے، ٹھنڈے پسینے یا بازو اور جبڑے میں درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً رک جائیں اور ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کو سردیوں میں جسمانی سرگرمی مکمل طور پر ترک کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم احتیاط، مناسب وقت اور معالج کی ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔

Leave a reply