
شدید گرمی اور لو کے تھپیڑے انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر دل کے مریضوں کے لیے۔ طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ نہ صرف ہیٹ اسٹروک کا سبب بنتا ہے بلکہ ہارٹ اٹیک کے امکانات بھی بڑھا دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمی کے موسم میں جسم سے پسینے کے ذریعے پانی اور نمکیات تیزی سے خارج ہوتے ہیں، جس کے باعث خون گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جو دل پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ لو لگنے یا ہیٹ ویو کی شدت دل کی کارکردگی کو متاثر کر کے جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اہم علامات جنہیں نظرانداز نہ کریں:
گرمی کے دوران اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں:
سانس لینے میں دشواری یا سینے میں بوجھ اور جلن
غیر معمولی یا ٹھنڈا پسینہ آنا
چکر آنا یا بے ہوشی محسوس ہونا
متلی، گھبراہٹ یا دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
شدید اسہال، جس سے جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جائے
زیادہ خطرے سے دوچار افراد:
ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول کے مریضوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بزرگ افراد، موٹاپے کا شکار لوگ اور وہ افراد جو دھوپ میں کام کرتے ہیں، زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
بچاؤ کی تدابیر:
پانی کا زیادہ استعمال کریں، چاہے پیاس محسوس نہ ہو
پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ اور کھیرے کھائیں
دوپہر کے اوقات (12 سے 4 بجے) میں دھوپ سے گریز کریں
باہر نکلتے وقت سر کو ڈھانپ کر رکھیں
تلی ہوئی اور بھاری غذاؤں سے پرہیز کریں
ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے گرمی کے مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے اور دل کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔









