ورلڈ کپ 2026: میسی اور رونالڈو کے ساتھ نوجوان ستارے بھی توجہ کا مرکز

0
14
ورلڈ کپ 2026: میسی اور رونالڈو کے ساتھ نوجوان ستارے بھی توجہ کا مرکز

فٹبال شائقین کی نگاہیں آئندہ فیفا ورلڈ کپ 2026 پر مرکوز ہیں، جہاں عالمی فٹبال کے دو بڑے نام، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، ممکنہ طور پر اپنے کیریئر کے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کریں گے۔ دونوں کھلاڑی 2006 سے عالمی مقابلوں کا حصہ رہے ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران فٹبال کی دنیا پر نمایاں اثرات چھوڑ چکے ہیں۔

تاہم اس بار توجہ صرف تجربہ کار کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہے گی، کیونکہ کئی نوجوان ٹیلنٹس بھی عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ ماہرین کے مطابق متعدد ابھرتے ہوئے کھلاڑی ورلڈ کپ 2026 میں اپنی شاندار کارکردگی سے دنیا بھر کے فٹبال مداحوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ترکیہ کے 21 سالہ کینان یلدیز ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن سے خاص توقعات وابستہ ہیں۔ یووینٹس سے وابستہ یہ اٹیکنگ مڈفیلڈر اور ونگر اپنی تکنیکی مہارت اور تخلیقی کھیل کی وجہ سے نمایاں سمجھے جاتے ہیں۔

ارجنٹینا کے نیکو پاز بھی مستقبل کے ممکنہ سپر اسٹارز میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ نوجوان مڈفیلڈر نے کلب سطح پر متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے اور انہیں ارجنٹائن کی آئندہ نسل کے اہم تخلیقی کھلاڑیوں میں دیکھا جا رہا ہے۔

برازیل کے نوجوان ونگر رایان نے بھی اپنی رفتار اور جارحانہ کھیل سے توجہ حاصل کی ہے۔ کلب اور قومی سطح پر ان کی ترقی نے انہیں برازیل کے روشن مستقبل کا حصہ بنا دیا ہے۔

میزبان ملک میکسیکو کے گلبرٹو مورا کم عمری میں ہی کئی کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی کارکردگی نے انہیں میکسیکو کے ابھرتے ہوئے ستاروں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے اپنی تیز رفتاری، ڈربلنگ اور گول اسکورنگ کی صلاحیت کے باعث یورپی فٹبال میں تیزی سے شہرت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ انگلینڈ کے نیکو اوریلی اپنی ہمہ جہت صلاحیتوں کے باعث کوچز کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

جرمنی کے لینارٹ کارل، کروشیا کے لوکا ووشکووچ، جاپان کے کیسوکے گوٹو اور عراق کے علی جاسم بھی ان نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو ورلڈ کپ 2026 میں اپنی ٹیموں کیلیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آغاز 11 جون کو شمالی امریکا میں ہوگا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ایک طرف میسی اور رونالڈو جیسے عظیم کھلاڑیوں کے ممکنہ آخری عالمی مقابلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جبکہ دوسری جانب نوجوان ستاروں کی نئی نسل عالمی فٹبال کے مستقبل کی سمت کا تعین کرتی نظر آئے گی۔

Leave a reply