شدید گرمی انسان کو چڑچڑا اور غصہ ور کیوں بنا دیتی ہے؟ ماہرین نے وجہ بتا دی

0
26
شدید گرمی انسان کو چڑچڑا اور غصہ ور کیوں بنا دیتی ہے؟ ماہرین نے وجہ بتا دی

گرمیوں کے موسم میں بہت سے لوگ خود کو معمول سے زیادہ بے چین، تھکا ہوا اور جلد غصے میں آنے والا محسوس کرتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت انسانی مزاج اور رویّوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب موسم غیر معمولی حد تک گرم ہو جاتا ہے تو جسم مسلسل اپنے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل میں توانائی زیادہ خرچ ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی تھکن بعض اوقات چڑچڑے پن اور جذباتی ردِعمل میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

نفسیاتی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شدید گرمی کے دوران لوگوں میں برداشت اور صبر کی سطح کم ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص پہلے ہی کام کے دباؤ، مالی مسائل یا دیگر ذہنی پریشانیوں سے دوچار ہو تو گرم موسم اس کے منفی جذبات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کے دنوں میں پانی کی کمی، زیادہ پسینہ آنا اور رات کے وقت مناسب نیند نہ ملنا بھی مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب جسم پوری طرح آرام نہ کر سکے تو معمولی معاملات بھی انسان کو زیادہ پریشان کر سکتے ہیں۔

حالیہ طبی مشاہدات کے مطابق صرف دن کی گرمی ہی نہیں بلکہ رات کے وقت بلند درجہ حرارت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر رات کو ماحول ٹھنڈا نہ ہو تو جسم کو آرام اور بحالی کا مناسب موقع نہیں ملتا، جس کے اثرات اگلے دن ذہنی کیفیت اور رویّے پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں مناسب مقدار میں پانی پئیں، ممکن ہو تو ٹھنڈی اور ہوادار جگہوں پر وقت گزاریں اور غصے کی کیفیت میں فوری ردِعمل دینے کے بجائے کچھ دیر توقف کریں۔ ان کے مطابق اکثر اوقات مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا شدید گرمی اسے محسوس کروا دیتی ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرمی جھگڑوں یا تنازعات کی واحد وجہ نہیں ہوتی، تاہم یہ انسان کو زیادہ حساس اور جذباتی بنا سکتی ہے۔ اس لیے شدید گرمی کے دنوں میں جسم کو ٹھنڈا اور ذہن کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرنا نہ صرف صحت بلکہ باہمی تعلقات کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

Leave a reply