سہیل سمیر کی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ متنازع مناظر کے باعث تنقید کی زد میں

0
13
سہیل سمیر کی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ متنازع مناظر کے باعث تنقید کی زد میں

پاکستانی اداکار سہیل سمیر کی نئی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ فلم کے بعض مناظر، خصوصاً ساتھی اداکارہ کے ساتھ قربت پر مبنی سینز، پر متعدد صارفین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو اور تبصروں میں بعض ناظرین نے فلم میں دکھائے گئے گلے ملنے اور بوسے کے مناظر کو پاکستانی معاشرتی اقدار کے منافی قرار دیا، جبکہ کچھ صارفین نے مکالموں کے انداز پر بھی اعتراض کیا۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈراموں اور ڈیجیٹل پروڈکشنز میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ایسے مناظر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس پر مواد کی نگرانی اور سنسر شپ کے نظام سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔

کچھ صارفین نے معاملے کی ذمہ داری صرف اداکار پر عائد کرنے کے بجائے فلم کی پوری تخلیقی ٹیم کو جواب دہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اداکار کے ساتھ ساتھ مصنف، ہدایت کار، پروڈیوسر اور متعلقہ پلیٹ فارم بھی پیش کیے جانے والے مواد کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

دوسری طرف بعض ناظرین نے اس تنقید سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فلم یا ڈرامے کے ایک منظر کو الگ کرکے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے کہانی، کرداروں اور مجموعی موضوع کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

’دوسری عورت‘ کے حوالے سے ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی تفریحی صنعت میں رومانوی اور بولڈ مناظر کی حدود کا سوال اٹھا دیا ہے۔ ایک جانب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بدلتے ہوئے ناظرین کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے انداز اپنائے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایک بڑا طبقہ مقامی ثقافت اور سماجی اقدار سے ہم آہنگ مواد کا مطالبہ کرتا ہے۔

سہیل سمیر اس سے قبل مختلف نوعیت کے کرداروں کے ذریعے اپنی اداکاری کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم ’دوسری عورت‘ کے متنازع مناظر نے ان کی اداکاری سے زیادہ پاکستانی شوبز میں مواد کے انتخاب اور پیشکش پر بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔

Leave a reply