
اسلام آباد: دانتوں کا پیلا پن دیکھ کر انہیں فوری سفید کرنے کے لیے گھریلو ٹوٹکے آزمانا بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرینِ دندان سازی کے مطابق لیموں، نمک یا بیکنگ سوڈا سے دانتوں کو بار بار رگڑنے سے دانتوں کی حفاظتی تہہ متاثر ہونے اور حساسیت بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔
دانتوں کی بیرونی سطح پر موجود انیمل انہیں مختلف نقصانات سے محفوظ رکھتا ہے۔ تیزابی اشیا، خصوصاً لیموں، انیمل کو کمزور کرسکتی ہیں، جبکہ کسی بھی پاؤڈر یا مادے کو زور سے رگڑنے سے دانتوں کی سطح پر گھساؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹھنڈی یا گرم چیزیں کھانے پینے کے دوران جھنجھناہٹ یا درد محسوس ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دانتوں کا ہلکا پیلا ہونا لازماً صفائی کی کمی کی نشانی نہیں۔ بعض افراد کے دانت قدرتی طور پر سفید کے بجائے قدرے زرد رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ چائے، کافی، تمباکو نوشی، پان چھالیہ اور بعض غذائی عادات بھی دانتوں کی رنگت تبدیل کرسکتی ہیں۔
اگر دانتوں پر سخت اور زرد تہہ مسلسل موجود رہے تو اسے گھر میں رگڑ کر اتارنے کے بجائے ڈینٹسٹ سے معائنہ کرانا زیادہ محفوظ ہے۔ ضرورت کے مطابق ماہرِ دندان سازی پروفیشنل کلیننگ کے ذریعے پلاک یا ٹارٹر کو مناسب طریقے سے صاف کرسکتے ہیں۔
دانتوں کی صحت بہتر رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم دو مرتبہ برش کرنا، کھانے کے بعد پانی سے کلی کرنا اور دانتوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرانا مفید اقدامات ہیں۔ چائے یا کافی کے استعمال کے بعد پانی پینے سے بھی منہ میں موجود رنگدار ذرات کے دانتوں پر جمع ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ مسلسل دانتوں کی حساسیت، مسوڑھوں سے خون آنا یا دانتوں پر بار بار سخت تہہ بننا ایسی علامات ہیں جنہیں محض خوبصورتی کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
دانتوں کو مصنوعی طور پر سفید کرنے کی کوشش کے بجائے پہلے ان کی رنگت میں تبدیلی کی اصل وجہ معلوم کرنا زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔








