
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدوں کی پاسداری جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت برقرار رکھے گا۔
یہ بیان یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکرز اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کے بعد سامنے آیا۔ پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطے میں حملوں پر تشویش کا اظہار کیا اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں میں امن و استحکام عالمی تجارت کے لیے ضروری ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔ ترجمان کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں ایران، کویت، مصر، عمان، روس، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی اور امن و استحکام کے معاملات پر رابطے کیے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتوں میں علاقائی امن، خودمختاری کے احترام اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے بھی سفارتی رابطے جاری رکھے گا، جبکہ کینیڈین وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔








