مشرقِ وسطیٰ میں نیا بحران، حوثیوں کے اعلان سے عالمی تجارت خطرے میں

یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے اور عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔
تاحال حوثیوں کی جانب سے ناکہ بندی کے طریقۂ کار یا ممکنہ اقدامات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق اگر باب المندب کے راستے پر جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی تیل کی فراہمی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔
باب المندب بحرِ احمر کا ایک اہم بحری راستہ ہے، جو یورپ، ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارتی اور توانائی کی ترسیل میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ عرصے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث بحرِ احمر کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اپنی خام تیل کی بڑی مقدار بحرِ احمر کے ساحل پر واقع ینبع بندرگاہ کے ذریعے برآمد کر رہا ہے۔ اسی دوران اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جون کے دوران باب المندب سے یومیہ تقریباً 7.4 ملین بیرل تیل کی ترسیل ہوئی، جو عالمی پیداوار کا قابلِ ذکر حصہ ہے۔
حوثی قیادت کے بعض رہنماؤں نے گزشتہ ہفتوں میں عندیہ دیا تھا کہ اگر خطے کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو باب المندب کے راستے کو بند کیا جا سکتا ہے۔
امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران حوثیوں کی مالی اور عسکری معاونت کرتا ہے، جبکہ حوثی اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے خود کو ایک خودمختار تحریک قرار دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب میں جہاز رانی متاثر ہوئی تو عالمی تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔









