دنیا کی نظریں دوحہ پر جم گئیں! ایران امریکا ڈیل کا نیا مسودہ سامنے آگیا

دوحہ: ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا نیا دور مکمل ہوگیا ہے، جس کے بعد مجوزہ معاہدے کا ایک نیا مسودہ دونوں فریقوں تک پہنچا دیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد مذاکرات مکمل ہونے کے بعد دوحہ سے روانہ ہوگیا ہے۔ تاہم اس پیش رفت کو مذاکرات کی ناکامی یا کسی اختلاف کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا رہا۔ آئندہ چند روز میں فریقین کے درمیان مزید بات چیت متوقع ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات میں تہران کی جانب سے پیش کردہ سات نکاتی منصوبے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس منصوبے میں آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران اپنے مجوزہ منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے قطری حکام کے ذریعے امریکا تک ایرانی مؤقف پہنچانے کے لیے دوحہ میں سفارتی رابطے جاری رکھے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی بحری پابندیاں ختم کیے بغیر اور ایرانی مطالبات پر پیش رفت کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوگا۔ تہران کے مطابق آبنائے ہرمز کو محفوظ طریقے سے کھولنے کے لیے بھی ان معاملات کا حل ضروری ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ مجوزہ سمجھوتے کے تحت آبنائے ہرمز کو ابتدائی منصوبے میں طے شدہ سات روز کے بجائے دو روز کے اندر بھی کھولا جا سکتا ہے۔
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں ایران کے خلاف ممکنہ مزید فوجی کارروائیوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی انتخابات کے نتائج سے کسی بڑی پالیسی تبدیلی کی توقع ظاہر نہیں کی۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے کہہ چکے ہیں کہ انتخابات سے قبل ایران کے خلاف نئے حملے نہیں کیے جائیں گے اور تہران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم مذاکرات کے نئے مسودے کی تفصیلات تاحال منظر عام پر نہیں آئیں، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان حتمی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کے امکانات کا انحصار آئندہ سفارتی رابطوں پر ہوگا۔









