
اسلام آباد: خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی اور سیاسی صورت حال کے پیش نظر وفاقی سطح پر اہم اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور دیگر علاقوں میں گورنر راج کے امکان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مجوزہ اضلاع میں کرم، اپر و لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ان تجاویز پر مزید غور اور آئینی کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ اور پارلیمان کے اجلاس متوقع ہیں۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں سیاسی مذاکرات بحال کرنے اور خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی پر زور دیا۔
مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ کرکے حکومت سے ہونے والی گفتگو سے آگاہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی تناؤ کم کرنے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملاقات متوقع ہے۔









