ایئرپورٹ سیکیورٹی ٹرے جراثیم پھیلانے کا بڑا ذریعہ قرار، ماہرین نے اہم مشورہ دے دیا

0
22
ایئرپورٹ سیکیورٹی ٹرے جراثیم پھیلانے کا بڑا ذریعہ قرار، ماہرین نے اہم مشورہ دے دیا

فضائی سفر کے دوران مسافر عام طور پر سیکیورٹی چیک مکمل ہوتے ہی جلد از جلد اپنے بورڈنگ گیٹ کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں، تاہم صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمرحلے کےفوراً بعد ہاتھوں اور ذاتی اشیاء کوبھی جراثیم سے پاک کرنابیماریوں سے بچاؤ کیلیے نہایت ضروری ہے۔

ایئرپورٹس پر سیکیورٹی چیکنگ کے دوران مسافروں کو اپنے فون، لیپ ٹاپ، پاسپورٹ، بیلٹ اور دیگر سامان پلاسٹک کی ٹرے میں رکھنا پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی ٹرے روزانہ ہزاروں افراد کے استعمال میں آتی ہیں، جس کے باعث ان پر مختلف اقسام کے جراثیم اور وائرس جمع ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ سیکیورٹی ٹرے ایئرپورٹ کی ان جگہوں میں شامل ہیں جنہیں سب سے زیادہ لوگ چھوتے ہیں۔ ان ٹرے پر ایسے جراثیم پائے جا سکتے ہیں جو نزلہ، زکام اور فلو جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافروں کو سیکیورٹی چیک کے بعد فوری طور پر ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنا چاہیے اور اپنے موبائل فون، پاسپورٹ، بورڈنگ پاس اور لیپ ٹاپ جیسی اشیاء کو بھی صاف کرنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو سامان رکھنے سے پہلے ٹرے کو جراثیم کش وائپ سے صاف کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

صحت کے ماہرین نے ایئرپورٹ انتظامیہ کو بھی مشورہ دیا ہے کہ سیکیورٹی مقامات پر سینیٹائزر کی سہولت بڑھائی جائے اور ٹرے سمیت دیگر زیادہ استعمال ہونے والی سطحوں کی باقاعدگی سے صفائی کو یقینی بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق ایئرپورٹ پر صرف سیکیورٹی ٹرے ہی نہیں بلکہ سیلف چیک اِن مشینوں کی اسکرینیں، کاؤنٹرز، ریلنگز اور دیگر مشترکہ استعمال کی جگہیں بھی جراثیم کی منتقلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ہاتھوں کی صفائی اور ذاتی سامان کو جراثیم سے پاک رکھنے کی عادت سفر کے دوران صحت مند رہنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Leave a reply