جلنے کی صورت میں ٹوتھ پیسٹ اور برف کا استعمال نقصان دہ، ابتدائی طبی امداد کے درست طریقے جاننا ضروری

0
17
جلنے کی صورت میں ٹوتھ پیسٹ اور برف کا استعمال نقصان دہ، ابتدائی طبی امداد کے درست طریقے جاننا ضروری

جلنے کے حادثات کے بعد فوری آرام حاصل کرنے کے لیے اکثر لوگ گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لیتے ہیں، تاہم ماہرین صحت کے مطابق ٹوتھ پیسٹ، برف، گھی، مکھن اور تیل کا استعمال متاثرہ جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جلنے والی جگہ پر ٹوتھ پیسٹ لگانے سے وقتی ٹھنڈک تو محسوس ہوسکتی ہے، لیکن اس میں شامل کیمیکل اور خوشبو جلد کو مزید متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ زخم میں انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح گھی، مکھن یا کھانے کا تیل لگانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ جلد پر تہہ بنا کر حرارت کو اندر روک سکتے ہیں، جس سے جلن میں اضافہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

برف لگانا بھی مناسب نہیں

ماہرین کے مطابق جلنے والی جلد پر براہ راست برف رکھنے سے بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شدید ٹھنڈک متاثرہ حصے میں خون کی گردش کو متاثر کرسکتی ہے اور جلد کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

جلنے پر فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟

جلنے کی صورت میں متاثرہ حصے کو تقریباً 20 منٹ تک ٹھنڈے بہتے پانی کے نیچے رکھنا چاہیے۔ اس عمل سے جلد کی حرارت کم کرنے، مزید نقصان سے بچانے اور درد میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے بعد زخم کو صاف، جراثیم سے پاک اور نرم، غیر چپکنے والی پٹی سے ڈھانپ دینا چاہیے۔ برف یا انتہائی ٹھنڈے پانی کے استعمال سے اجتناب ضروری ہے۔

چھالے پھوڑنے سے گریز کریں

جلنے کے بعد جلد پر بننے والے چھالوں کو خود سے پھوڑنا یا ان کی جلد اتارنا درست نہیں، کیونکہ چھالے متاثرہ حصے کے نیچے موجود نئی جلد کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انہیں پھوڑنے سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اگر کپڑا جلنے کے باعث جلد کے ساتھ چپک جائے تو اسے زبردستی الگ کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔

کن حالات میں ڈاکٹر سے رجوع ضروری ہے؟

اگر جلنے کا زخم گہرا یا وسیع ہو، چھالے بن جائیں یا چہرے، ہاتھوں، پاؤں اور جوڑوں جیسے حساس حصوں پر چوٹ آئے تو فوری طبی معائنہ کروانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق جلنے کی شدت بعض اوقات ابتدائی طور پر واضح نہیں ہوتی اور اس کی علامات بعد میں سامنے آسکتی ہیں، اس لیے سنگین نوعیت کے زخم کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ جلنے کی صورت میں غیر مستند گھریلو نسخوں کے بجائے درست ابتدائی طبی امداد اپنائی جائے تاکہ جلد کو مزید نقصان اور ممکنہ پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔

Leave a reply