بنگلہ دیشی کرکٹر نعیم حسن کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

0
10
بنگلہ دیشی کرکٹر نعیم حسن کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے بین الاقوامی کرکٹر نعیم حسن کے ساتھ مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے بدسلوکی اور تشدد کا واقعہ سامنے آنے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نعیم حسن ڈھاکہ پریمیئر ڈویژن کرکٹ لیگ میں شرکت کے بعد رات کے وقت ڈھاکہ ایئرپورٹ سے اپنے آبائی شہر چٹاگرام جا رہے تھے کہ راستے میں کچھ افراد، جنہیں انہوں نے پولیس اہلکار قرار دیا، نے ان کی گاڑی روک لی۔ کرکٹر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت متعدد بار ظاہر کی، تاہم ان کے ساتھ مبینہ طور پر سخت رویہ اختیار کیا گیا۔

نعیم حسن کے مطابق انہیں مارا پیٹا گیا اور بعد ازاں ایک آٹو رکشہ کے ذریعے تھانے منتقل کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کارروائی سرکاری نوعیت کی تھی تو انہیں پولیس کی گاڑی کے بجائے آٹو رکشہ میں کیوں لے جایا گیا۔ انہوں نے واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سربراہ اور سابق کپتان تمیم اقبال نے شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی قومی کھلاڑی کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد انہوں نے نعیم حسن سے رابطہ کیا اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ اس واقعے پر گہری تشویش رکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ متعلقہ حکام معاملے کی مکمل، شفاف اور منصفانہ تحقیقات کریں گے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ شائقین اور سابق کھلاڑیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر اختیارات کے ناجائز استعمال کے شواہد ملتے ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔

تاحال حکام کی جانب سے واقعے کے حوالے سے تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم معاملہ عوامی اور کھیلوں کے حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے۔

واضح رہے کہ نعیم حسن نے 2018 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا اور وہ بنگلہ دیش کی جانب سے متعدد ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں۔

Leave a reply