
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر میں جاری احتجاجی سرگرمیوں کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے منسلک بعض افراد کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہے، جس میں مسلح افراد کی موجودگی اور راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی سے متعلق گفتگو ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مبینہ آڈیو میں دو افراد کے درمیان گفتگو سنائی دیتی ہے، جس میں گرفتار ساتھیوں کی رہائی اور احتجاجی حکمتِ عملی پر بات کی گئی ہے۔ آڈیو میں بعض سخت نوعیت کے جملے بھی شامل ہیں۔ تاہم اس آڈیو کی آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ متعلقہ افراد کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے حالیہ پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ کے مطابق امن و امان کو متاثر کرنے والے عناصر کو قانون کے سامنے پیش ہونا چاہیے، جبکہ انہیں قانونی معاونت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے جانے چاہئیں اور ریاستی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والا ہر اقدام قانون کی نظر میں قابلِ گرفت ہو سکتا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی آزاد کشمیر کی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر مخصوص مقاصد کے تحت سرگرم ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ تمام معاملات کا حل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے اور ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کی آئینی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں آزاد جموں و کشمیر میں مختلف مقامات پر احتجاجی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ حکام اور مختلف ادارے امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔








