حرمین شریفین پر حملہ ناقابلِ قبول، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے: شہباز شریف

0
10
حرمین شریفین پر حملہ ناقابلِ قبول، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہے: شہباز شریف

نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، سعودی عرب، کشمیر، فلسطین، بھارت کے ساتھ پانی کے تنازع اور دہشت گردی سمیت متعدد عالمی و علاقائی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں امن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں اور عالمی برادری کو تنازعات کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی۔ شہباز شریف کے مطابق حرمین شریفین مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس ہیں اور ان پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔

بھارت کو پانی کے معاملے پر خبردار

وزیراعظم نے سندھ طاس نظام کو پاکستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریاؤں کا پانی ملک کی معیشت اور زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے پانی کا بہاؤ روکنے کی کوشش کی تو پاکستان اسے جنگی اقدام تصور کرے گا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو بھی عالمی فورم پر دہرایا۔

کشمیر کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مشکل ہے

وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو جنوبی ایشیا کے امن سے جوڑتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے کشمیر کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے۔

انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔

فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر تشویش

شہباز شریف نے غزہ میں جاری انسانی بحران کا ذکر کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی بچوں کو بھی وہی بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہییں جو دنیا کے دیگر بچوں کو حاصل ہیں۔

وزیراعظم نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، کو فلسطین کے مسئلے کے حل کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے لبنان اور شام میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر

شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے اس جنگ میں بڑی انسانی اور معاشی قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی برادری سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اپیل کی۔

اسلاموفوبیا اور مذہبی منافرت پر تشویش

وزیراعظم نے دنیا میں اسلاموفوبیا اور مذہبی منافرت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مذہب یا مذہبی برادری کے خلاف نفرت کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش معاشی مشکلات اور قرضوں کے دباؤ کا بھی ذکر کیا اور عالمی سطح پر مالی تعاون اور ریلیف کی ضرورت پر زور دیا۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو جنگ کے بجائے امن، مذاکرات اور اعتماد سازی کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ اسے روکنے میں ہے۔

Leave a reply