برکس اجلاس میں بھارتی سفارت کاری پر سوالات، اہم رہنماؤں کی غیرحاضری نمایاں

نئی دہلی: بھارت کی میزبانی میں ہونے والے برکس اجلاس کے حوالے سے بھارتی سفارت کاری اور اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی شرکت پر مختلف سوالات سامنے آئے ہیں۔
اجلاس میں بعض اہم ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کی عدم شرکت نے بھی توجہ حاصل کی۔ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ نے کی، جبکہ برازیل کے صدر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کی باہمی ملاقاتیں اور دوطرفہ گفتگو بھی نمایاں رہی۔ میڈیا رپورٹس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں اور گروپ فوٹو کے مناظر کو بھی موضوعِ بحث بنایا گیا۔
دوسری جانب اجلاس میں پاکستان سے متعلق بھارتی مؤقف اور مبینہ پروپیگنڈے پر بھی بحث سامنے آئی۔ ملائیشیا کی جانب سے بھارتی الزامات کو مسترد کیے جانے کا دعویٰ بھی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
برکس اجلاس کے دوران عشائیے کے انتظامات اور کھانے کے مینو سے متعلق معاملات بھی سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں زیرِ بحث رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برکس جیسے کثیر ملکی فورم میں اہم ممالک کی شرکت کی سطح اور رہنماؤں کے باہمی روابط کسی بھی میزبان ملک کی سفارتی پوزیشن کے بارے میں تاثر تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔









