بحیرہ خزر میں بڑا حملہ، تہران کا یوکرین کے خلاف سخت احتجاج

0
10
بحیرہ خزر میں بڑا حملہ، تہران کا یوکرین کے خلاف سخت احتجاج

تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرہ خزر میں اس کے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک ایرانی اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔
یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یوکرین نے بحیرہ خزر میں طویل فاصلے تک حملوں کے دوران ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو ان کے مطابق ایران سے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہو رہے تھے، جبکہ ایک جنگی جہاز بھی حملے کی زد میں آیا۔
دوسری جانب زیلنسکی نے روس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ایران کو خلیجی ممالک اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کر رہا ہے تاکہ ایرانی فوجی کارروائیوں میں مدد مل سکے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے واقعے کے بعد یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا اور حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورپی یونین کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار سے گفتگو میں مطالبہ کیا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس واقعے کا نوٹس لے اور حملے کی مذمت کرے۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین مسلسل ایران پر روس کو شاہد ڈرونز فراہم کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے، جنہیں یوکرینی علاقوں پر حملوں میں استعمال کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ادھر امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے بعد یوکرین نے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے اپنے فوجی اہلکار بھی خطے میں تعینات کیے ہیں، جن کا مقصد مقامی فورسز کو ڈرون حملوں کے انسداد میں معاونت فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔

Leave a reply