سمندر کی گہرائیوں میں چھپا شاہی راز بے نقاب، نایاب سونے کے سکے اور زیورات دریافت

کروشیا کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر میں ڈوبے ہوئے بازنطینی دور کے ایک قدیم جہاز سے سونے کے قیمتی زیورات اور سکے دریافت ہوئے ہیں، جنہوں نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس غیرمعمولی دریافت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز میں کوئی اہم سرکاری یا بااثر شخصیت سفر کر رہی تھی۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ قدیم جہاز ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل دریافت ہوا تھا، جس کے بعد کئی برس تک زیرِ آب کھدائی اور تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ تازہ تحقیق کے نتائج کے مطابق جہاز کا تعلق غالباً ساتویں یا آٹھویں صدی عیسوی سے ہے۔
دریافت ہونے والی اشیا میں بازنطینی سلطنت کے ہراکلیئس خاندان کے چار شہنشاہوں کے ادوار (610 سے 711 عیسوی) کے سونے کے سکے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یاقوت، زمرد اور موتیوں سے مزین قیمتی بکسوں کے بند بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتی نوادرات کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کوئی عام تجارتی جہاز نہیں تھا، بلکہ غالب امکان ہے کہ اس میں کسی اعلیٰ عہدے دار یا بااثر شخصیت کے ساتھ اس کا عملہ یا محافظ بھی موجود تھے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بازنطینی دور کی بحری سرگرمیوں، شاہی سفروں اور اس زمانے کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔







