بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ممکنہ ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور

0
12
بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس میں ممکنہ ریلیف دینے کی تجاویز زیر غور

اسلام آباد: وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں ریلیف دینے کی مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق کم اور متوسط آمدنی رکھنے والے ملازمین کے لیے ٹیکس بوجھ کم کرنے کی ورکنگ تقریباً مکمل کر لی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق حکومت موجودہ انکم ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کرتے ہوئے ان کی تعداد بڑھانے پر غور کر رہی ہے تاکہ مختلف آمدنی والے طبقات کو زیادہ متوازن اور ہدفی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے ٹیکس شرحوں میں کمی کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف سطح کے ٹیکس ریلیف کی تجاویز متعلقہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی زیر بحث ہیں۔
مزید برآں، ایک کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ آمدنی رکھنے والے افراد پر عائد اضافی سرچارج کے خاتمے اور اعلیٰ ترین انکم ٹیکس شرح میں کمی کی تجاویز بھی زیر غور بتائی جاتی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر مجوزہ اقدامات کی منظوری مل جاتی ہے تو لاکھوں تنخواہ دار افراد کو براہ راست مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً وہ ملازمین جن کی ماہانہ آمدنی2سے تین لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
برآمدات کے شعبے کو سہولت دینے کے لیے ایکسپورٹرز پر عائد ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی بجٹ تجاویز کا حصہ بتائی جا رہی ہے۔
تاہم ان تمام اقدامات کے حتمی نفاذ کا انحصار متعلقہ مالیاتی اداروں کی منظوری اور حکومتی فیصلوں پر ہوگا۔ بجٹ دستاویزات میں حتمی شمولیت کا فیصلہ منظوری کے بعد متوقع ہے۔

Leave a reply