بجلی اور گیس کی سبسڈی کا طریقہ کار بدلنے کی تیاری، نئی پالیسی کب نافذ ہوگی؟

0
14
بجلی اور گیس کی سبسڈی کا طریقہ کار بدلنے کی تیاری، نئی پالیسی کب نافذ ہوگی؟

اسلام آباد: حکومت بجلی اور گیس کے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کے نظام میں تبدیلی لانے پر غور کررہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت رعایتی سہولتوں کی فراہمی کو کم آمدنی والے اور مستحق خاندانوں تک محدود کرنے کی تیاری کی جارہی ہے، جبکہ نئے نظام پر عمل درآمد 2027 میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق توانائی کے شعبے میں سبسڈی کی تقسیم کو مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ مجوزہ شیڈول کے تحت بجلی کے لیے نیا نظام جنوری 2027 سے نافذ کرنے کی تجویز ہے، جبکہ گیس کے شعبے میں تبدیلیوں کا آغاز یکم جولائی 2027 سے ہوسکتا ہے۔

کم آمدنی والے خاندانوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا فیصلہ

نئے سبسڈی نظام کے لیے مستحق گھرانوں کی شناخت کو بنیادی اہمیت دی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پاور ڈویژن عالمی بینک کے تعاون سے ایک سماجی و اقتصادی رجسٹری مرتب کررہا ہے، جس کے ذریعے خاندانوں کی مالی حیثیت اور حکومتی امداد کے لیے ان کی اہلیت کا جائزہ لیا جائے گا۔

دستیاب معلومات کے مطابق اس رجسٹری کی تیاری اور مستحق افراد کی نشاندہی کے لیے نومبر 2026 تک کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ڈیٹا جمع کرنے اور اس کی تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ریکارڈ کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا سے منسلک کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کے ذریعے سبسڈی کی تقسیم کو مستحق افراد تک محدود رکھنے اور سرکاری مالی معاونت کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

بجلی اور گیس کے نرخوں میں تبدیلی کا امکان

مجوزہ اصلاحات میں بجلی کے موجودہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی اور کراس سبسڈی کے طریقہ کار پر نظرثانی بھی شامل ہے۔ نئے نظام میں صارفین کو رعایت دینے کے لیے ان کی مالی حیثیت اور مقررہ معیار کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔

تاہم، حکومت نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ سبسڈی حاصل کرنے کے لیے ماہانہ آمدنی کی حد کیا ہوگی، کن صارفین کو رعایت مل سکے گی اور نئے نظام سے مختلف گھریلو صارفین کے بلوں میں کتنا فرق پڑے گا۔

ان سوالات کے جوابات پالیسی کے حتمی خدوخال اور نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد سامنے آسکیں گے۔

توانائی کے شعبے میں مجوزہ تبدیلیوں کا ایک مقصد سرکاری خزانے پر سبسڈی کے اخراجات کا دباؤ کم کرنا اور بجلی و گیس کے نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانا بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بنیادی ٹیرف میں ردوبدل کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ دوسری جانب حکومت تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور ان کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے اقدامات پر بھی کام کررہی ہے۔

حکومت کی جانب سے سبسڈی کے نظام میں تبدیلی کا مقصد دستیاب وسائل کو زیادہ ہدفی انداز میں استعمال کرنا بتایا جارہا ہے۔ اگر مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو بجلی اور گیس کے صارفین کو رعایت دینے کا موجودہ طریقہ کار تبدیل ہوسکتا ہے۔

عام صارفین کے لیے کیا اہم ہے؟

نئی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سبسڈی کے حصول کا طریقہ کار موجودہ نظام سے مختلف ہوسکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کن صارفین کے بلوں میں اضافہ یا کمی ہوگی۔

صارفین کے لیے سبسڈی کی اہلیت، آمدنی کی حد، نئے نرخوں اور درخواست دینے کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات سامنے آنا ضروری ہیں۔ حکومت کیجانب سے حتمی پالیسی جاری ہونیکے بعد ہی ان تبدیلیوں کے حقیقی اثرات کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔

Leave a reply