بار بار میٹھا کھانے کی خواہش، کب تشویش کی بات ہے؟

0
9
بار بار میٹھا کھانے کی خواہش، کب تشویش کی بات ہے؟

کیا آپ کو دن میں کئی بار مٹھائی، چاکلیٹ، بسکٹ یا میٹھے مشروبات کی طلب محسوس ہوتی ہے؟ کبھی کبھار میٹھا کھانے کی خواہش معمول کی بات ہے، تاہم اگر یہ خواہش مسلسل بڑھ رہی ہو تو اس کے پیچھے خوراک، نیند، ذہنی دباؤ یا بعض اوقات صحت سے متعلق عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔

طویل وقفے سے کھانا اور غیر متوازن خوراک

اگر کھانے کے درمیان بہت زیادہ وقفہ ہو جائے تو جسم فوری توانائی کے لیے میٹھی چیزوں کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خوراک میں پروٹین، فائبر، دالیں، سبزیاں اور مکمل اناج کی کمی بھی بار بار بھوک اور میٹھا کھانے کی خواہش کا باعث بن سکتی ہے۔

میٹھے سے فوری توانائی تو ملتی ہے، لیکن یہ اثر عموماً دیرپا نہیں ہوتا اور کچھ ہی دیر بعد دوبارہ بھوک محسوس ہو سکتی ہے۔

نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ

کم نیند اور مسلسل ذہنی دباؤ بھی کھانے کی عادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تھکن کے دوران انسان فوری توانائی کے لیے میٹھی اشیا کا انتخاب کر سکتا ہے، جبکہ بعض افراد ذہنی دباؤ یا پریشانی میں بھی میٹھا کھانے کو سکون کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

اس عادت کو کم کرنے کے لیے مناسب نیند، روزانہ چہل قدمی یا ورزش اور ذہنی دباؤ کو صحت مند طریقوں سے کم کرنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا یہ ذیابیطس کی علامت ہے؟

صرف میٹھا کھانے کی خواہش کو ذیابیطس کی علامت قرار دینا درست نہیں۔ تاہم اگر اس کے ساتھ غیر معمولی پیاس، بار بار پیشاب آنا، بلاوجہ وزن کم ہونا یا مسلسل تھکن جیسی علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ اور مناسب طبی معائنہ ضروری ہے۔

میٹھے کی طلب کیسے کم کی جائے؟

اپنے کھانے کے اوقات باقاعدہ رکھیں اور غذا میں پروٹین اور فائبر والی اشیا شامل کریں۔ انڈے، دہی، دالیں، سبزیاں، پھل اور مکمل اناج بہتر انتخاب ہو سکتے ہیں۔ میٹھے کی خواہش ہونے پر مٹھائی، بسکٹ یا میٹھے مشروبات کے بجائے تازہ پھل کا انتخاب بھی کیا جا سکتا ہے۔

یاد رکھیں، میٹھا کھانے کی خواہش بذاتِ خود کسی بیماری کی تشخیص نہیں کرتی، لیکن اگر یہ عادت بہت زیادہ ہو جائے یا دیگر غیر معمولی علامات کے ساتھ ظاہر ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اپنی صحت پر توجہ دینا بہتر ہے۔

Leave a reply