پازیب کی جھنکار یا خوف کا وہم؟ 608 طلبا نے ہاسٹل خالی کردیا

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع امراوتی میں ایک سرکاری رہائشی اسکول کے ہاسٹل میں پراسرار آوازوں کی افواہوں نے طلبا میں خوف کی لہر دوڑا دی، جس کے بعد 608 طلبا ہاسٹل چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔
رپورٹس کے مطابق بعض طالبات نے ہاسٹل میں پازیب کی جھنکار کے علاوہ ہنسنے اور رونے جیسی آوازیں سنائی دینے کی شکایت کی۔ ان واقعات کے بعد بھوت پریت سے متعلق افواہیں پھیلیں اور طلبا و والدین میں تشویش بڑھ گئی۔
ہاسٹل چھوڑنے والے طلبا میں 263 لڑکے اور 345 لڑکیاں شامل ہیں۔ والدین نے بھی بچوں کے خوف کے پیش نظر انہیں گھروں میں رکھنے کو ترجیح دی۔
اسکول انتظامیہ نے معاملے کو ماورائی سرگرمی کے بجائے طبی اور نفسیاتی پہلو سے دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ شکایت کرنے والی طالبات کو طبی معائنے کے لیے اسپتال لے جایا گیا، جہاں ماہرِ نفسیات نے ان کی علامات کا جائزہ لیا۔ ابتدائی رائے کے مطابق یہ کیفیت شدید ذہنی دباؤ اور ہسٹیریا جیسی علامات سے وابستہ ہو سکتی ہے۔
مقامی محکمہ صحت کے حکام نے طلبا اور والدین پر زور دیا ہے کہ وہ افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے معاملے کو سائنسی اور طبی انداز میں سمجھیں۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ طلبا کی کونسلنگ بھی جاری ہے تاکہ خوف کم کیا جا سکے اور وہ دوبارہ معمول کے مطابق تعلیم جاری رکھ سکیں۔
ایک رضاکار تنظیم بھی طلبا کی کونسلنگ اور توہم پرستی کے خاتمے کی کوششوں میں انتظامیہ کا ساتھ دے رہی ہے۔









