
امریکی سائنس دانوں نے ایک منفرد تجرباتی ڈرون تیار کیا ہے جو تیز رفتار گردش کے باعث انسانی آنکھ کو اپنی واضح شکل دکھانے کے بجائے دھندلے ہالے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ محققین کو امید ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں جنگلی حیات کے مشاہدے اور عمارتوں و پلوں کے معائنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
ڈرون کی نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے وابستہ محققین کے تیار کردہ اس ڈرون کو ’فینٹم ٹوئسٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے چھپانے کے لیے کسی مخصوص رنگ یا روایتی شفاف مادے پر انحصار نہیں کیا گیا، بلکہ اس کا ڈیزائن انسانی بصارت اور تیز رفتار حرکت کے اثرات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔
عام ڈرونز میں متعدد پروپیلر استعمال ہوتے ہیں، لیکن اس تجرباتی ماڈل میں ایک موٹر اور ایک پروپیلر نصب کیا گیا ہے۔ پروپیلر ایک سمت میں گردش کرتا ہے، جبکہ ڈرون کا مرکزی جسم مخالف سمت میں گھومتا ہے۔ اس حرکت سے اس کے مختلف حصے مسلسل اپنی پوزیشن تبدیل کرتے رہتے ہیں اور مجموعی ساخت کو پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے۔
محققین کے مطابق، یہ ڈرون تقریباً ایک سیکنڈ میں 25 مرتبہ گردش کرتا ہے۔ اس تیز حرکت سے پیدا ہونے والا دھندلا پن، جسے موشن بلر کہا جاتا ہے، اس کی ظاہری شکل کو انسانی آنکھ کے لیے کم نمایاں بنا دیتا ہے۔ ابتدائی نتائج میں اسے عام کواڈ کاپٹر کے مقابلے میں بصری طور پر تقریباً دس گنا کم نمایاں قرار دیا گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت نے ڈیزائن بنانے میں کیسے مدد دی؟
اس ڈرون کی تیاری میں مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر ماڈلنگ اور حسابی طریقوں سے مدد لی گئی۔ تحقیق کے دوران تقریباً 20 ہزار ممکنہ ڈیزائن تیار کیے گئے، جن میں موٹر، پروپیلر، بیٹری اور دیگر اجزا کی جگہ مختلف انداز میں تبدیل کی گئی۔
اس کے بعد کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعے ان ڈیزائنز کا مختلف پس منظر اور زاویوں سے جائزہ لیا گیا۔ آسمان، درختوں اور عمارتوں جیسے ماحول میں ڈرون کی نمایاں ہونے کی سطح کا اندازہ لگانے کے لیے انسانی بصارت کی نقل کرنے والا ماڈل بھی استعمال کیا گیا۔
ابتدائی جانچ میں بہتر نتائج دینے والے 500 ڈیزائنز کو مزید بہتر بنانے کے بعد ایسا نمونہ منتخب کیا گیا جسے حقیقی دنیا میں تیار کیا جاسکے اور جو پرواز کے دوران اپنا توازن بھی برقرار رکھ سکے۔
جنگلی حیات کے تحفظ میں ممکنہ استعمال
سائنس دانوں کے مطابق، اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم فائدہ جنگلی حیات کا مشاہدہ ہوسکتا ہے۔ پرندوں کے گھونسلوں، افزائش کے مقامات اور آبی پرندوں کی آبادی کی نگرانی کرتے وقت عام ڈرونز کی موجودگی جانوروں کو پریشان کرسکتی ہے۔
کم نمایاں ڈرون کے ذریعے محققین کو قدرتی ماحول میں جانوروں کے رویوں کا مشاہدہ کرنے کا بہتر موقع مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پلوں، پرانی عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے معائنے میں بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے امکانات موجود ہیں۔
کیا یہ ڈرون مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہے؟
فی الحال ایسا نہیں ہے۔ فینٹم ٹوئسٹ ایک تجرباتی نمونہ ہے اور اس کی موجودگی مکمل طور پر چھپائی نہیں جاسکتی۔ اس کے پروپیلر سے پیدا ہونے والی آواز، باریک تاریں اور بعض معاون ساختیں اب بھی نظر آسکتی ہیں۔
محققین مستقبل میں اس کے شور کو کم کرنے اور ایسے مواد کے استعمال پر غور کر رہے ہیں جو ڈرون کو مزید غیر نمایاں بنا سکیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت اور مختلف حالات میں کارکردگی جانچنے کے لیے مزید تجربات درکار ہوں گے۔
اس تحقیق کے نتائج 16 جولائی کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں منعقدہ روبوٹکس، سائنس اینڈ سسٹمز کانفرنس میں پیش کیے گئے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف مشینوں کی کارکردگی بہتر بنانے ہی نہیں، بلکہ ان کی ظاہری ساخت اور ماحول میں نمایاں ہونے کے انداز کو تبدیل کرنے میں بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔









