
ایران میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صورت میں پاکستان بھی تابکار آلودگی کے ممکنہ خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار دھماکے کی نوعیت، تابکار مادوں کے اخراج اور موسمی حالات پر ہوگا۔
ایران کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں ممکنہ تابکاری کے پھیلاؤ سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایران کے وسطی علاقے میں واقع کسی زیرِ زمین جوہری تنصیب پر ایٹمی حملہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں تابکار مادے فضا میں خارج ہو جاتے ہیں تو ان کے اثرات ایران کی سرحدوں تک محدود رہنا ضروری نہیں۔
ایسی صورت حال میں پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں تک تابکار ذرات پہنچنے کا امکان موجود ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان میں آلودگی کی شدت اور اس کے جغرافیائی پھیلاؤ کا تعین حملے کی نوعیت اور اس وقت کے فضائی و موسمی حالات سے ہوگا۔
ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیب کیوں اہم ہے؟
ایران کے صوبہ اصفہان میں واقع پہاڑی علاقے پک ایکس ماؤنٹین کے اندر زیرِ زمین تنصیبات کی تعمیر سے متعلق اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اس مقام کو ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہاں پہاڑ کے اندر گہرائی میں تعمیراتی کام کیا جا رہا ہے۔ سخت چٹانوں کے اندر موجود ہونے کے باعث اس تنصیب کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس مقام کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ ایران کے جوہری مراکز کے قریب واقع ہے۔ اگر کسی حملے کے نتیجے میں زیرِ زمین ڈھانچے کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہاں کون سا جوہری مواد موجود ہے اور کتنا مواد بیرونی فضا میں خارج ہوتا ہے۔
تابکاری پاکستان تک کیسے پہنچ سکتی ہے؟
جوہری دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تابکار ذرات فضا میں بلند ہو کر ہواؤں کے ساتھ طویل فاصلے تک سفر کر سکتے ہیں۔ اس عمل کو ریڈیو ایکٹو فال آؤٹ کہا جاتا ہے۔
دھماکے کے دوران مٹی، پتھر اور دیگر مادے باریک ذرات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات تابکار عناصر کے ساتھ مل کر فضا میں پھیلتے ہیں اور بعدازاں مختلف مقامات پر زمین پر جمع ہو سکتے ہیں۔
اگر ایران میں کسی ممکنہ دھماکے کے بعد ہواؤں کا رخ مشرق کی جانب ہو تو تابکار ذرات افغانستان کے راستے پاکستان کے بعض علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
بارش بھی اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔ فضا میں موجود تابکار ذرات بارش کے ساتھ زمین پر گر سکتے ہیں، جس سے مخصوص مقامات پر آلودگی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔
اس لیے صرف دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کی بنیاد پر خطرے کا اندازہ لگانا درست نہیں ہوگا۔
بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ پر ممکنہ اثرات
پاکستان کے مختلف صوبوں میں تابکار آلودگی پہنچنے کے امکانات یکساں نہیں ہوں گے۔
بلوچستان: ایران کے ساتھ طویل سرحد ہونے کے باعث بلوچستان کے مغربی اور شمال مغربی علاقے ممکنہ طور پر ابتدائی نگرانی کے لیے اہم ہوں گے۔ اگر تابکار بادل مشرق کی طرف بڑھے تو صوبے کے بعض اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا: افغانستان کے راستے آنے والے تابکار ذرات صوبے کے بعض علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کا انحصار فضائی دباؤ اور ہواؤں کی سمت پر ہوگا۔
پنجاب: اگر تابکار مادے فضا میں زیادہ دیر تک موجود رہیں اور ہوائیں مسلسل مشرق کی جانب چلتی رہیں تو پنجاب کے بعض علاقوں میں بھی ان کی موجودگی کا امکان ہو سکتا ہے۔
سندھ: کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں تک تابکار ذرات پہنچنے کے لیے مخصوص موسمی حالات درکار ہوں گے۔ تاہم طویل فاصلے پر فضائی پھیلاؤ کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
یہ ممکنہ جغرافیائی راستے ہیں، کسی تصدیق شدہ موسمیاتی ماڈل کی پیش گوئی نہیں۔ حقیقی صورت حال کا تعین تابکاری کی پیمائش اور فضائی نگرانی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
انسانی صحت کو کن خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے؟
تابکار مادے انسانی جسم میں سانس لینے، آلودہ پانی پینے یا متاثرہ خوراک استعمال کرنے کے ذریعے داخل ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں آلودہ سطحوں سے خارج ہونے والی شعاعیں بھی انسانی صحت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
تابکاری کی زیادہ مقدار جسم کے خلیات اور بافتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ شدید اثرات کی صورت میں ہڈیوں کے گودے، خون کے خلیات اور جسم کے مدافعتی نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
طویل عرصے تک مخصوص مقدار میں تابکاری کی زد میں رہنے سے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ تابکار آیوڈین تھائیرائڈ گلینڈ میں جمع ہو کر اس عضو کو متاثر کر سکتا ہے۔
تاہم تابکار ذرات کی معمولی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص لازماً بیماری کا شکار ہو جائے گا۔ اصل خطرہ تابکاری کی مقدار، اس کی قسم اور اس کے اثرات کے دورانیے سے طے ہوتا ہے۔
زراعت اور خوراک کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ
ممکنہ تابکار آلودگی کا اثر صرف انسانی صحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ زراعت اور خوراک کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
اگر تابکار ذرات زرعی زمینوں پر جمع ہو جائیں تو فصلوں، سبزیوں، پھلوں اور جانوروں کے چارے میں آلودگی پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
کچھ تابکار عناصر پودوں کی سطح پر جمع ہوتے ہیں جبکہ بعض مٹی کے ذریعے پودوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں سے حاصل ہونے والی خوراک کی جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔
دودھ، گوشت، سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کے نمونوں کا معائنہ کرکے یہ طے کرنا ہوگا کہ انہیں انسانی استعمال کے لیے محفوظ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اگر کسی علاقے میں آلودگی کی تصدیق ہو جائے تو وہاں زرعی پیداوار کی ترسیل اور فروخت پر عارضی پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔
دریائے سندھ اور پینے کے پانی کو کتنا خطرہ ہوگا؟
پاکستان میں پانی کے ذرائع، خصوصاً دریاؤں، ڈیموں، نہروں اور زیرِ زمین ذخائر کی نگرانی بھی اہم ہو سکتی ہے۔
اگر تابکار ذرات ایسے علاقوں میں جمع ہوں جہاں پانی کے ذخائر یا آبپاشی کا نظام موجود ہو تو پینے اور زرعی استعمال کے پانی کے نمونوں کی جانچ ضروری ہوگی۔
تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ ایران میں کسی جوہری واقعے کے بعد دریائے سندھ یا پاکستان کے تمام آبی ذخائر لازماً آلودہ ہو جائیں گے۔
اس حوالے سے اصل اہمیت آلودگی کے مقام، اس کی مقدار اور پانی کے بہاؤ کی سمت کو حاصل ہوگی۔
زیرِ زمین دھماکا ہونے سے خطرہ کم ہو سکتا ہے؟
ماہرین کے نزدیک زیرِ زمین اور زمین کی سطح پر ہونے والے جوہری دھماکوں کے ماحولیاتی اثرات میں فرق ہوتا ہے۔
اگر زیرِ زمین دھماکے سے پیدا ہونے والا تابکار مواد چٹانوں کے اندر ہی محدود رہے اور بیرونی فضا میں خارج نہ ہو تو دور دراز علاقوں تک تابکاری پھیلنے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر دھماکے سے پہاڑی ڈھانچے میں دراڑیں پڑ جائیں یا زیرِ زمین تنصیب کو نقصان پہنچنے کے باعث تابکار مواد باہر نکل آئے تو فضائی آلودگی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ فرق بھی اہم ہے کہ کسی سینٹری فیوج مرکز کو نقصان پہنچنا اور جوہری ری ایکٹر یا بڑی مقدار میں جوہری ایندھن کا تباہ ہونا ایک جیسی صورت حال نہیں۔
اگر کسی تنصیب میں بڑی مقدار میں تابکار مواد موجود نہ ہو تو وہاں سے خارج ہونے والی اضافی آلودگی محدود ہو سکتی ہے۔ تاہم جوہری ہتھیار کے دھماکے سے پیدا ہونے والے تابکار مادوں کے خطرات الگ ہوں گے۔
پاکستان کو کن اقدامات کی ضرورت ہوگی؟
ایران میں کسی ممکنہ جوہری واقعے کی صورت میں پاکستان کے لیے بروقت معلومات اور تابکاری کی مسلسل نگرانی بنیادی اہمیت رکھے گی۔
پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ صوبائی اداروں کو باہمی رابطے کے ذریعے صورت حال کا جائزہ لینا ہوگا۔
خصوصاً بلوچستان اور مغربی سرحدی علاقوں میں تابکاری کی پیمائش، فضائی حالات کا تجزیہ اور پانی و خوراک کے نمونوں کی جانچ اہم اقدامات ہوں گے۔
اگر کسی مقام پر خطرناک سطح کی تابکاری کی تصدیق ہوتی ہے تو شہریوں کو محفوظ عمارتوں میں رہنے، غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں کیا تابکاری سے بچا سکتی ہیں؟
ممکنہ جوہری حادثے کے حوالے سے پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، تاہم یہ دوا ہر قسم کی تابکاری سے تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
یہ صرف تابکار آیوڈین کے اثرات سے تھائیرائڈ گلینڈ کو تحفظ دینے میں مدد دیتی ہے۔ یہ تابکار سیزیم یا دیگر عناصر سے پیدا ہونے والے خطرات کو ختم نہیں کرتی۔
طبی ماہرین کی ہدایت کے بغیر ان گولیوں کا استعمال مناسب نہیں، کیونکہ ان کے غیر ضروری استعمال سے بھی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے حقیقی خطرہ کتنا ہے؟
ایران میں ممکنہ جوہری حملے کے پاکستان پر اثرات کے بارے میں فی الحال کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔ خطرے کا تعین اس بات سے ہوگا کہ دھماکا کس نوعیت کا ہے، کتنا تابکار مواد فضا میں خارج ہوتا ہے اور اس وقت ہواؤں کا رخ کیا ہوتا ہے۔
اگر تابکار مواد زیرِ زمین ہی محدود رہے تو پاکستان میں وسیع پیمانے پر آلودگی کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر بڑی مقدار میں تابکار مادے فضا میں خارج ہوں تو سرحد پار ان کے پہنچنے کا خدشہ موجود رہے گا۔
ایسی صورت حال میں ضروری نہیں کہ پورا پاکستان متاثر ہو۔ مختلف علاقوں میں تابکاری کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کئی علاقے کسی قابلِ ذکر اثر سے محفوظ رہیں۔
اس لیے پاکستان کے لیے سب سے اہم ضرورت خوف و ہراس کے بجائے سائنسی بنیادوں پر نگرانی، مستند معلومات کی فراہمی، خوراک اور پانی کی جانچ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری ہوگی۔









