امریکہ میں اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق خدشات، انسدادِ جاسوسی نگرانی سخت کیے جانے کی اطلاعات

0
26
امریکہ میں اسرائیلی جاسوسی سرگرمیوں سے متعلق خدشات، انسدادِ جاسوسی نگرانی سخت کیے جانے کی اطلاعات

واشنگٹن: امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے بعض حکام نے اسرائیل کی جانب سے امریکی پالیسی سازی اور حساس حکومتی معاملات سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ممکنہ کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پینٹاگون کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (ڈی آئی اے) نے حالیہ عرصے میں ایک داخلی تشخیصی دستاویز تیار کی، جس میں اسرائیل کی انٹیلی جنس اور تکنیکی معلومات اکٹھی کرنے کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تشخیص میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، بالخصوص ایران سے متعلق امریکی حکومتی مشاورت اور فیصلہ سازی کے عمل تک رسائی کی ممکنہ کوششوں پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس جائزے میں چند ایسے واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا جنہوں نے متعلقہ حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا کوئی ایک مخصوص واقعہ خطرے کی درجہ بندی میں تبدیلی کا سبب بنا یا نہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اپنے اتحادی ممالک کے خلاف جاسوسی نہیں کرتا۔ سفارت خانے کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی توجہ ان عناصر پر مرکوز ہوتی ہے جنہیں اسرائیل اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بھی مذکورہ رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ پینٹاگون نے اس معاملے پر عوامی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اسی طرح امریکی انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی کرنے والے دفتر نے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادی ممالک کے درمیان معلومات کے حصول کی کوششیں بین الاقوامی تعلقات میں غیر معمولی نہیں سمجھی جاتیں، تاہم بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ حالیہ سرگرمیوں کے حوالے سے مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران سے متعلق پالیسی امور پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض معاملات پر اختلافِ رائے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

Leave a reply