اہرام مصر کی تعمیر کا راز: قدیم مصریوں کی تعمیراتی مہارت کے نئے شواہد سامنے آگئے

0
3
اہرام مصر کی تعمیر کا راز: قدیم مصریوں کی تعمیراتی مہارت کے نئے شواہد سامنے آگئے

قدیم دنیا کے عظیم عجائبات میں شامل اہرام مصر کی تعمیر صدیوں سے ماہرینِ آثار قدیمہ کے لیے ایک بڑا سوال رہی ہے کہ ہزاروں سال پہلے اتنے بڑے اور پیچیدہ ڈھانچے کس طرح تعمیر کیے گئے۔ اب نئی تحقیق سے اس راز کو سمجھنے میں مدد ملنے والی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

ماہرینِ آثار قدیمہ نے دریائے نیل کے مشرقی کنارے کے قریب ایک قدیم تدفینی مقام دریافت کیا ہے، جہاں موجود مقبروں کے تعمیراتی انداز میں وہ خصوصیات نظر آتی ہیں جو بعد میں اہرام مصر کی تعمیر میں استعمال ہوئیں۔

تحقیق کے مطابق ان مقبروں کی بنیادیں نیچے سے زیادہ چوڑی اور مضبوط بنائی گئی تھیں جبکہ اوپر کی جانب دیواریں بتدریج تنگ ہوتی گئی تھیں۔ یہی طرزِ تعمیر بعد میں قدیم مصری اہرام کے ڈھانچے میں بھی نظر آیا، جس نے انہیں مضبوط اور پائیدار بنایا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مقامات سے پتھر تراشنے اور لکڑی کے استعمال کے قدیم طریقوں کے شواہد بھی ملے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اہرام کی تعمیر سے کئی صدیوں پہلے مصری ماہرین تعمیراتی تکنیکوں میں کافی ترقی کر چکے تھے۔

یہ دریافت مصر کے علاقے جبل الطیر میں ہوئی، جہاں ہزاروں سال سے تدفین کی جاتی رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں کے مقبروں کا انداز مصر کے قدیم شہر ابیدوس میں موجود شاہی مقبروں سے بھی مماثلت رکھتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیراتی علم وقت کے ساتھ پورے مصر میں پھیلتا گیا۔

محققین کے مطابق یہ مقبرے اس ارتقائی سفر کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے بعد مصر میں عظیم اہرام کی تعمیر کا دور شروع ہوا۔

اس سے قبل ایک اور تحقیق میں ماہرین نے گیزہ کے اہرام کے قریب قدیم دریائے نیل کی ایک چھپی ہوئی شاخ دریافت کی تھی۔ تحقیق کے مطابق یہ آبی راستہ ہزاروں سال پہلے 30 سے زائد اہرام کے قریب بہتا تھا، جس سے یہ وضاحت ملتی ہے کہ بھاری پتھر تعمیراتی مقامات تک کیسے پہنچائے گئے۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 40 میل طویل یہ دریائی شاخ وقت کے ساتھ خشک ہوگئی اور صحرا و زرعی زمین کے نیچے چھپ گئی۔ اس راستے کی موجودگی سے یہ بھی سمجھنے میں مدد ملی کہ قدیم مصریوں نے اہرام کی تعمیر کے لیے مخصوص مقامات کا انتخاب کیوں کیا۔

گیزہ کا عظیم ہرم تقریباً 23 لاکھ پتھریلے بلاکس سے تعمیر کیا گیا تھا، جن میں سے ہر بلاک کا وزن کئی ٹن تک تھا۔ نئی دریافتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم مصری نہ صرف تعمیراتی فن میں ماہر تھے بلکہ وہ قدرتی وسائل اور ماحول کو بھی تعمیراتی منصوبوں میں مؤثر انداز سے استعمال کرتے تھے۔

Leave a reply