انٹارکٹیکا کی برف بنی کائنات کو دیکھنے کی نئی کھڑکی، نیوٹرینو تحقیق نے فلکیات کا رخ بدل دیا

0
11
انٹارکٹیکا کی برف بنی کائنات کو دیکھنے کی نئی کھڑکی، نیوٹرینو تحقیق نے فلکیات کا رخ بدل دیا

جنوبی قطب کی کئی کلومیٹر گہری برف اب صرف ایک منجمد خطہ نہیں رہی، بلکہ سائنس دانوں کے لیے کائنات کے انتہائی طاقتور اور دور دراز واقعات کا سراغ لگانے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

انٹارکٹیکا میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری میں برف کی گہرائی میں نصب ہزاروں حساس آلات ایسے ذرات کا سراغ لگاتے ہیں جو کائنات کے انتہائی توانائی والے واقعات سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان ذرات کو نیوٹرینوز کہا جاتا ہے۔

نیوٹرینوز برقی چارج سے محروم انتہائی ہلکے ذرات ہیں جو عام مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ خلا میں طویل فاصلے طے کرتے ہوئے تقریباً سیدھا سفر کرسکتے ہیں اور زمین تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن ان کا براہِ راست مشاہدہ انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

برف کے اندر چھپی ’دوربین‘ کیسے کام کرتی ہے؟

آئس کیوب روایتی دوربینوں سے بالکل مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ تقریباً ایک مکعب کلومیٹر صاف انٹارکٹک برف کے اندر ہزاروں روشنی محسوس کرنے والے سینسر نصب ہیں۔

جب کوئی نیوٹرینو برف میں موجود کسی ایٹم کے ساتھ نایاب تعامل کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایسے ذرات پیدا ہوسکتے ہیں جو برف کے اندر مختصر روشنی پیدا کرتے ہیں۔ آبزرویٹری کے سینسر اسی معمولی روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔

سائنس دان ان سگنلز کی بنیاد پر نیوٹرینو کی سمت، توانائی اور دیگر خصوصیات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یوں ایک ایسا ذرّاتی پیغام حاصل ہوجاتا ہے جو اس کائناتی مقام کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتا ہے جہاں وہ نیوٹرینو پیدا ہوا تھا۔

نیوٹرینوز سائنس دانوں کے لیے کیوں اہم ہیں؟

کائنات میں بعض انتہائی طاقتور واقعات ایسے ذرات پیدا کرتے ہیں جو بے پناہ توانائی رکھتے ہیں۔ نیوٹرینوز ان واقعات سے زمین تک معلومات پہنچا سکتے ہیں۔

چونکہ ان پر برقی چارج نہیں ہوتا، اس لیے خلا میں سفر کرتے ہوئے وہ مقناطیسی میدانوں سے عام طور پر متاثر نہیں ہوتے۔ اس طرح ان کا راستہ روشنی کے مقابلے میں مختلف نوعیت کی معلومات فراہم کرسکتا ہے۔

دنیا بھر کے سائنس دان اسی خصوصیت کو استعمال کرتے ہوئے کہکشاؤں اور کائنات کے دور دراز علاقوں میں موجود طاقتور ذرائع کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فرانسس ہالزن کا اہم کردار

جنوبی قطب کی برف کو نیوٹرینو ڈیٹیکٹر کے طور پر استعمال کرنے کا تصور امریکی ماہرِ طبیعیات فرانسس ہالزن نے 1988 میں پیش کیا تھا۔

ان کے تصور کے مطابق انٹارکٹیکا کی انتہائی صاف اور گہری برف کو ایک بڑے قدرتی ذرّاتی ڈیٹیکٹر کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔ کئی برس کی تحقیق اور عملی کوششوں کے بعد یہی تصور آئس کیوب آبزرویٹری کی شکل میں سامنے آیا، جو 2011 میں مکمل ہوئی۔

آئس کیوب نے بعد کے برسوں میں نظامِ شمسی سے باہر سے آنے والے انتہائی توانائی والے نیوٹرینوز کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس تحقیق سے ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے میں نیوٹرینو کے ذرائع کا مطالعہ بھی ممکن ہوا۔

نیوٹرینو فلکیات کا نیا دور

اس تحقیق نے فلکیات میں ایک نئی سمت متعارف کرائی ہے۔ روایتی فلکیات میں کائنات کا مطالعہ بنیادی طور پر روشنی اور دیگر برقی مقناطیسی شعاعوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ نیوٹرینو آبزرویٹریز کائنات کو ایک مختلف قسم کے ’پیغام رساں‘ ذرات کے ذریعے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

اسی پیش رفت کے باعث نیوٹرینو کو کائنات کے انتہائی طاقتور اور پراسرار واقعات کی تحقیق کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھا جارہا ہے۔

تحقیق میں مزید توسیع کی تیاری

آئس کیوب میں نئی ٹیکنالوجی اور اپ گریڈز کے ذریعے اس کی مشاہداتی صلاحیت بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ مستقبل میں آئس کیوب جین 2 جیسے بڑے منصوبے کے ذریعے ڈیٹیکٹر کا حجم اور حساسیت مزید بڑھانے کی تجویز ہے۔

اگر یہ توسیع عملی شکل اختیار کرتی ہے تو سائنس دان پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں اور زیادہ توانائی والے نیوٹرینوز کا مشاہدہ کرسکیں گے۔

یوں انٹارکٹیکا کی برف ایک ایسے منفرد سائنسی آلے میں تبدیل ہوگئی ہے جو انسانی آنکھ سے پوشیدہ کائناتی واقعات کے بارے میں معلومات فراہم کررہا ہے۔ نیوٹرینوز کے ذریعے کائنات کا مطالعہ فلکیات کو ایک ایسا نیا زاویہ دے رہا ہے جس سے مستقبل میں کائنات کے کئی بڑے راز سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Leave a reply