میر رضا علی کیس: پولیس نے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی

0
15
میر رضا علی کیس: پولیس نے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی

کراچی: میر رضا علی کی ہلاکت کی تحقیقات پر اہلِ خانہ کے تحفظات کے بعد کراچی پولیس نے کیس کی دوبارہ تفتیش کے لیے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نئی کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کریں گے، جبکہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر سمیت کرائم، انویسٹی گیشن اور دیگر اہم شعبوں کے سینئر افسران بھی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

کمیٹی میں ایس پی کورنگی، ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشنز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے غضنفر بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔

پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی سابقہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور نئی کمیٹی تازہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھائے گی۔ کیس سے متعلق ڈیجیٹل شواہد بھی محفوظ رکھے جائیں گے۔

نئی تحقیقاتی ٹیم ایسے وقت میں بنائی گئی ہے جب میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اہلِ خانہ کا مؤقف ہے کہ میر رضا کی موت کے معاملے کی غیر جانب دار اور مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

دوسرے پوسٹ مارٹم میں اہم شواہد سامنے آگئے

میر رضا علی کی قبر کشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں جسم پر متعدد چوٹوں اور زخموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جسم کے مختلف حصوں پر زخم، کھوپڑی میں فریکچر، پسلیوں کے ٹوٹنے اور دیگر چوٹوں کے آثار ملے ہیں۔ کمر پر گولی لگنے کے باعث پھیپھڑوں میں خون جمع ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ابتدائی رپورٹ میں گولی کے داخلی اور خارجی زخموں کے علاوہ جسم پر ایسے متعدد نشانات کا بھی ذکر ہے جو موت سے قبل لگنے والی چوٹوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

میڈیکل ٹیم نے لاش سے 17 نمونے حاصل کیے ہیں جبکہ والدین کے ریفرنس سیمپلز بھی لیے گئے ہیں۔ مزید تجزیے کے لیے نمونے فارنزک لیبارٹری بھیجے جا رہے ہیں۔

اہلِ خانہ کا مؤقف

میر رضا کے والد میر حسین اور والدہ پہلے ہی بیٹے کی موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف سے اختلاف کر چکے ہیں۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ابتدا ہی سے اسے قتل کا معاملہ سمجھتے ہیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وکیل جبران ناصر نے بھی دوسرے پوسٹ مارٹم کے ابتدائی نتائج کے بعد تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف ہے کہ سامنے آنے والے طبی شواہد کی بنیاد پر کیس کی تمام پہلوؤں سے ازسرنو تحقیقات ضروری ہیں۔

میر رضا علی 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے مردہ حالت میں ملے تھے۔ اس سے قبل وہ فیروز آباد کے علاقے سے لاپتہ ہوئے تھے۔

ابتدائی طبی معائنے میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم جسم پر دیگر نشانات اور چوٹوں کے باعث اہلِ خانہ نے ابتدائی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اب نئی تحقیقاتی کمیٹی تازہ میڈیکل شواہد، فارنزک رپورٹس اور دیگر دستیاب مواد کی روشنی میں کیس کی تحقیقات کرے گی۔

Leave a reply