امریکی ریاست ٹیکساس میں ایچ ون بی ویزا سے متعلق بڑی تحقیقات کا آغاز

0
8
امریکی ریاست ٹیکساس میں ایچ ون بی ویزا سے متعلق بڑی تحقیقات کا آغاز

امریکی ریاست ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کے دفتر نے تقریباً 30 ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان کمپنیوں پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت غیر ملکی ورکرز کی اسپانسرشپ میں ممکنہ طور پر غیر قانونی یا مشکوک طریقے اپنائے۔
حکام کی جانب سے متعلقہ کمپنیوں کو قانونی نوٹس جاری کیے گئے ہیں جن میں ان سے ملازمین کی تفصیلات، مالی ریکارڈ اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق مکمل دستاویزات طلب کی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا ویزا سسٹم کے غلط استعمال کا کوئی منظم طریقہ کار تو موجود نہیں۔
تحقیقات کے دائرے میں آنے والی کمپنیوں میں مختلف ٹیکنالوجی ادارے شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر غیر ملکی ملازمین کو غیر شفاف طریقوں سے اسپانسر کیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ کچھ ادارے صرف کاغذی وجود رکھتے تھے اور ان کے دفاتر یا عملی سرگرمیوں کی کوئی واضح حقیقت موجود نہیں تھی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق بعض کمپنیوں نے ممکنہ طور پر جعلی یا غیر فعال دفاتر کے پتے استعمال کیے تاکہ ویزا درخواستوں کو قانونی شکل دی جا سکے۔ تاہم ابھی تک کسی بھی ادارے کے خلاف باضابطہ طور پر جرم ثابت نہیں ہوا اور تمام الزامات ابتدائی نوعیت کے ہیں۔
اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے کہا ہے کہ ریاست کسی بھی ایسے نظام کو برداشت نہیں کرے گی جس کے ذریعے امیگریشن قوانین کا غلط استعمال کیا جائے۔ ان کے مطابق تحقیقات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر قانون کے کٹہرے میں آئیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایچ ون بی ویزا پروگرام پہلے ہی مختلف مباحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف اسے عالمی سطح پر ہنر مند افراد کو امریکہ میں روزگار دینے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیقات نہ صرف ٹیک انڈسٹری بلکہ امیگریشن پالیسیوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے اور ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Leave a reply