امریکا کا بڑا بحری ایکشن، ایران جانے والا جہاز میزائل حملے سے ناکارہ

امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج عمان میں اس کے ایک جنگی ہیلی کاپٹر نے ایران کی جانب جانے والے ایک تجارتی کارگو جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق کارروائی کا مقصد جہاز کا اسٹیئرنگ سسٹم ناکارہ بنانا تھا۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی ایم ایچ-60 ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم بردار تجارتی جہاز ایم وی ویلا نووا کے انجن روم کو دو ہیلفائر میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے عملے نے متعدد وارننگز کے باوجود امریکی فورسز کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
امریکی فوج کے مطابق کارروائی کے بعد جہاز نے ایران کی جانب سفر جاری نہیں رکھا۔ واقعے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی، جبکہ ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا۔
سینٹ کام نے بتایا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے تحت 11 اگست تک 55 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا جا چکا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق تین ایسے جہازوں کو بھی ناکارہ بنایا گیا جنہوں نے ہدایات پر عمل نہیں کیا، جبکہ دو جہازوں پر امریکی اہلکار معائنے کے لیے سوار ہوئے۔
ادھر بحیرہ احمر میں ایک الگ واقعے کے دوران یمن کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی جنگجوؤں کے ایک کارگو جہاز پر حملے میں چھ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جہاز سعودی عرب کے لیے فوجی سازوسامان لے جا رہا تھا۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے عالمی تیل اور شپنگ مارکیٹ پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔









