امریکا نے گھٹنے ٹیک دیے؟ ایران کی 7 شرائط ماننے پر آمادگی کا بڑا دعویٰ

0
11
امریکا نے گھٹنے ٹیک دیے؟ ایران کی 7 شرائط ماننے پر آمادگی کا بڑا دعویٰ

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی روابط کی بحالی کے امکانات ایک بار پھر روشن ہوگئے ہیں۔ ایران کے قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن تہران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط ماننے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی کا کہنا تھا کہ ان شرائط کی منظوری کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ کھل سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی نئی شرائط اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت سے مختلف ہیں۔

محسن رضائی کے مطابق پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے نمائندوں کے ساتھ چار ملکی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں خطے کی سلامتی اور مستقبل کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو خطے میں امن و سلامتی سے متعلق کسی بھی نظام کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اجلاس میں مکہ دفاعی معاہدے یا یمن کے تنازع پر گفتگو نہیں ہوئی۔

ایرانی رہنما نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب نئے ہتھیاروں کے ذریعے دیا جائے گا اور حملہ آور کو سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے بھیجے گئے خط کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لیا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق امریکا کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا فیصلہ ایرانی شرائط کی منظوری سے مشروط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی طے شدہ پروگرام موجود نہیں اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی سات شرائط قبول کیے جانے سے متعلق دعویٰ محسن رضائی نے کیا ہے، جبکہ ان شرائط کی تفصیلات اور واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

Leave a reply